A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined variable: breadcrumbs

Filename: islam/Islam.php

Line Number: 309


ماہ رمضان کا روزہ

  • المحتويات:                    

أولا : التعريف بشهر رمضان

1-ماہ رمضان کی تعریف

ثانيـــــا: أهمية شهر رمضان ووجوب صيامه

2-ماہ رمضان کی اہمیت اور اس کے روزہ کی فرضیت

ثالثـــــا: كيفية صيام شهر رمضان

3-ماہ رمضان کے روزہ کی کیفیت

رابعــــا: وجبة الإفطار

4- افطاری

خامسا: وجبة السحور

5- سحری

سادسا: الأمور التي ينبغي أن يفعلها الصائم أثناء صومه.

6-چند وہ امور جنھیں روزہ کی حالت میں ایک روزہ دار کو کرنا چاہیۓ۔

سابعــا: الأمور التي ينبغي أن ((لا)) يفعلها الصائم أثناء صومه.

7- چند وہ امور جنھیں روزہ کی حالت میں ایک روزہ دار کو نہیں کرنا چاہیۓ۔

ثامنــــا: الأعذار التي تبيح عدم صيام رمضان، وكيف يقضي الأيام التي أفطر فيها.

8-چند وہ مجبوریاں جن میں روزہ نہ رکھنا جائز ومباح ہے ،نیز ان دنوں کی قضاء کیسے کریگا جنھیں اسنے چھوڑا ہے ۔

تاسعــا: إذا انتهى شهر الصيام جاء عيد المسلمين.

9- جب ماہ رمضان ختم ہوتا ہے تو مسلمانوں کی عید آتی ہے ۔

 

  • أولا: التعريف بشهر رمضان.

1-ماہ رمضان کی تعریف

 

قال الله عز وجل في سورة يونس الآية رقم (5) : { هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ}

ارشاد باری تعالی (وہ اللہ تعالی ایسا ہے جسنے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اسکے لۓ منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو اللہ تعالی نے یہ چیزیں بے ‌فائدہ نہیں پیدا کیں ،وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 5)

فالله خلق القمر حتى نعلم متى يبدأ الشهر وينتهي ؛ وذلك من خلال رؤيتنا له متى يبدأ الهلال ومتى ينتهي الهلال ، والشهر الواحد أحيانا إما أن يكون 30 يوما ولا يزيد عن ذلك أبدا ، وإما أن يكون 29 يوما ولا يمكن أن ينقص عن ذلك أبدا ، وتسمى هذه الشهور بالشهور (القمرية أو الهجرية أو الهلالية ...الخ) ، وفي العام الواحد يوجد 12 شهرا ، مرتبة على النحو التالي:

اللہ تعالی نے چاند کو پیدا فرمایا تاکہ ہمیں یہ معلوم ہوسکے کہ مہینہ کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے اور یہ ہمارے چاند دیکھنے کے اعتبار سے کہ چاند کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے کیونکہ ایک مہینہ کبھی 30 دن کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ کبھی نہیں ہوتا ہے اور کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور ناممکن ہے کہ 29 دن سے کم کا ہو اور ان مہینوں کو قمری یا ہجری یا ہلالی مہینہ سے جانا جاتا ہے اور چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں جن کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے ۔

1- محرم

- صفر

3- ربيع الأول

4- ربيع الثاني

5- جمادى الأولى

6- جمادى الآخرة

7- رجب

8- شعبان

9- رمضان

10- شوال

11- ذو القعدة

12- ذو الحجة

ومن ضمن هذه الشهور سنلاحظ أن هناك شهرا يسمى (شهر رمضان) وهو الشهر التاسع.

ان بارہ مہینوں کے ضمن میں ایک مہینہ وہ ہے جسے ماہ رمضان سے جانا جاتا ہے اور وہ نواں مہینہ ہے ۔

 

  • ثانيا: أهمية شهر رمضان ووجوب صيامه

2-ماہ رمضان کی اہمیت اور صوم کی فرضیت

 

- شهر رمضان نزلت فيه أول آيات القرآن ، يقول عز وجل: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ } ، وكما هو واضح في الآية فالله أمر المؤمنين أن يصوموا هذا الشهر كاملا ، حتى يشكروا نعمة الله على هذا القرآن الذي فيه هداية البشرية وسعادتها الأبدية.

رمضان ہی کا مہینہ ہے جسمیں سب سے پہلے قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ارشاد باری تعالی (ماہ رمضان وہ ہے جسمیں قرآن اتاراگیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جسمیں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمییز کی نشانیاں ہیں ،تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پاۓ اسے روزہ رکھنا چاہیۓ ۔(سورۃ البقرۃ 185)

جیسا کہ آیت میں واضح ہے کہ اللہ تعالی نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ اس پورے مہینہ کا روزہ رکھیں یہاں تک کہ وہ اللہ کی اس نعمت (نزول قرآن پر )شکر گزار ہوں جسمیں پوری انسانیت کے لۓ ہدایت اور دائمی سعادت ہے ۔

- إذا بلغ الذكرسن البلوغ وهو 15 سنة أو أنبت شعر العانة أو أنزل المني فيجب عليه أن يصوم، وكذلك الأنثى إذا بلغت سن البلوغ أوحاضت قبل ذلك فإنه يجب عليها صيام شهر رمضان ، والذي أكد أهميته الرسول صلى الله عليه وسلم حتى جعل الصيام أحد أركان الإسلام الخمسة ؛ فيجب على المسلم البالغ أن يصوم شهر رمضان كاملا ، حتى ينال أجر الصيام، وحتى ينجو من عقوبة من أفطر في رمضان بغير عذر.

جب مذکر (مرد)سن بلوغت یعنی 15 سال کی عمر کو پہنچ چاۓ یا زیر ناف کے بال اگ آئیں یا منی کا نزول ہو جاۓ تو ایسے انسان پر روزہ رکھنا واجب ہے ، اور ایسے ہی مونث (عورت)جب سن بلوغت کو پہنچ جاۓ یا اسے اس سے پہلےحیض آجاۓ تو اسپر رمضان کے مہینہ کا روزہ رکھنا واجب ہے ۔جس کے اہمیت کی تاکید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طور پر کی کہ (ر مضان کے )روزہ کواسلام کے پانچ رکنوں میں سے ایک رکن قراردیا ،لہذا بالغ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ رمضان کے پورے مہینہ کا روزہ رکھے تاکہ اسے روزہ کا اجر وثواب مل سکے اور ان لوگوں کے سزا سے اسے نجات مل سکے جو رمضان کا روزہ بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتے ہیں ۔

 

- أما بالنسبة للصغير الذي لم يصل إلى سن البلوغ فالصيام لا يجب عليه ، ولكن الأسرة المسلمة تربي أبناءها وبناتها على الصيام ، حتى يتعودوا عليه ؛ فلا يجدوا فيه مشقة إذا كبروا .

البتہ وہ چھوٹا بچہ جو ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہے اسپر روزہ واجب نہیں ہے ،لیکن مسلمان خاندان کو چاہیۓ کہ وہ اپنے پچے اور بچیوں کی تربیت روزہ رکھنے پر کریں یہاں تک کہ وہ اسکے عادی ہوجائیں اور جب وہ بڑ ے ہوجائیں تو انھیں روزہ رکھنےمیں مشقت نہ پیش آۓ ۔

 

  • ثالثا: كيفية صيام شهر رمضان

3-ماہ رمضان کے روزہ کی کیفیت

 

معنى الصيام: أن تنوي صيام شهر رمضان كاملا بحيث تبتعد في نهار رمضان عن أصول المفطرات الثلاث التالية:

صوم کا معنی: یہ ہیکہ پورے ماہ رمضان کے روزہ رکھنے کی نیت اسطور پر کرے کہ رمضان میں دن میں مندرجہ ذیل تین وہ پنیادی مفطرات (روزہ توڑ دینے والی چیزوں سے) دور رہے ۔

1-      لا تأكل شيئا ، وابتعد عن كل شيء يسمى أكلا أو له معنى الأكل مثل الإبر المغذية ونحوها ، أما الأمور التي ليس لها معنى الأكل فإنها جائزة مثل: السواك، والاكتحال، والتعطر، ونحوها.

1-کوئی چیز نہ کھا‎‎ۓ۔اور ایسے ہی ہر اس چیز سے دور رہے جسے کھانے کا نام دیا جاتا ہو یا وہ کھانے کے  معنی میں ہوجیسے وہ انجکشن جو خوراک کا کام کرتا ہو یا اس جیسی دیگر چیزیں ۔ہاں وہ چیزیں جو کھانے کے معنی میں نہ ہو

تو وہ جائز ہیں جیسے مسواک ،سرمہ ،عطر اور اس جیسی دیگر اشیاء کا استعمال ۔(روزہ کی حالت میں جائز ہے )

2-      لا تشرب شيئا ، وابتعد عن كل شيء يسمى شربا أو له معنى الشرب ، مثل: شرب الدخان ونحوه . أما الأمور التي ليس لها معنى الشرب فإنها جائزة ، مثل: الاستحمام، وقطرة الأذن، أو قطرة العين، وبلع الريق، واستخدام معجون الأسنان ... ونحو ذلك.

2-کوئی چیز نہ پیۓاور ایسے ہی ہر اس چیز سے دور رہے جسے پینے کا نام دیا جاتا ہو یا وہ پینے کے معنی میں ہو جیسے سگریٹ اور اس جیسی ديگر چیزوں کا پینا ،البتہ وہ چیزیں جو اس قبیل سے نہ ہوں تو ان کا استعمال جائز ہے جیسے غسل کرنا ،آنکھ اور کا ن میں دوا ڈالنا ،تھوک کا نگلنا ،دانت کےلۓ پیسٹ کا استعمال کرنا وغیرہ ۔

3-      لا تجامع زوجتك ، وابتعد عن كل شيء فيه إخراج شهوتك ، أما مجرد تقبيل الزوجة وضمها فلا يفطر ، والأحسن الابتعاد عن ذلك خاصة لمن لا يملك نفسه.وأما خروج المني أثناء النوم فلا يفطر لأنه غير متعمد.

3-روزہ داراپنی بیوی سے (حالت روزہ میں) جماع وہمبستری نہ کرے اور ایسے ہی ہر اس چیز سے دور رہے جسمیں  وہ اپنے شہوت کو خارج کرسکے ،البتہ صرف بیوی کو بوسہ لینے اور چمٹا لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ،ہاں وہ شخص جو اپنے نفس پر کنٹرول نہ رکھے تو اسکے لۓ دور رہنا بہتر ہے ،البتہ نیند کی حالت میں منی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ ایسا اس نے قصدا نہیں کیا ہے ۔

 

  • رابعا: وجبة الإفطار

4- افطاری

 

- الوجبة التي يتناولها الصائم عند المغرب تسمى (الإفطار).

وہ کھانا جسے روزہ دار مغرب کے وقت کھاتا ہے اسے افطار کہا جاتا ہے ۔

- من الأفضل أن يتعجل الصائم في إفطاره ؛ فيفطر بعدما تغرب الشمس مباشرة ولا يؤخر الإفطار مثلا إلى وقت صلاة العشاء.

- كما يجوز أن يبدأ الصائم إفطاره على أي نوع من أنواع الطعام ، لكن الأفضل أن يفطر على نوع من أنواع التمر يسمى (رطب) ، فإن لم يجد يفطر على أي نوع من أنواع التمر ؛ فإن لم يجد يفطر على الماء.

بہتر یہ ہیکہ روزہ دار افطاری کرنے میں جلدی کرے ،لہذا اسے چاہیۓ کہ سورج کے ڈوبتے ہی افطاری کرے اور افطار کو نماز عشاء تک کے لۓ موخر نہ کرے ،جیسا کہ روزہ دار کے لۓ جائز ہے کہ وہ افطار کسی بھی کھانے سے کرسکتا ہے لیکن بہتر یہ ہیکہ رطب (تازہ ) کھجور سے افطاری کرے ،اوراگر وہ میسر نہ ہو تو کسی بھی کھجور سے افطاری کرلے ،کھجور کے موجود نہ ہونے کی صورت میں پانی سے افطاری کرلے ۔

- ينبغي على الصائم أن يلتزم بآداب الأكل الإسلامية عند إفطاره ، وخاصة الآداب الواجبة والتي من أهمها :

روزہ دار کے لۓ مناسب ہیکہ وہ افطاری کے وقت کھانے کے جو اسلامی آداب ہیں انھیں لازم پکڑے خصوصا بعض وہ اہم آداب جو واجب ہیں ۔

1- أن يقول: بسم الله .

2- وأن يأكل بيمينه.

3-وأن يأكل مما يليه

1-(کھانا شروع کرنے سے پہلے )بسم اللہ کہے ۔

2-کھانا داہنے ہاتھ سے کھاۓ ۔

3-کھانا اپنے سامنے سے کھا‎ۓ۔

 

وإن شاء الصائم أن يقول أحد الأدعية النبوية الصحيحة عند بدء إفطاره فله ذلك ، وسينال الأجر عليه ومن تلك الأدعية : ( ذهب الظمأُ وابتلَّت العروقُ ، وثبت الأجرُ إن شاء الله ).

اور اگر روزہ دار چاہیےتو افطاری شروع کرتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاؤں میں سے کو ئی ایک دعا پڑھے تاکہ اسے اسپر اجروثواب مل سکے ۔ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے (ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله )۔

 

  • خامسا: وجبة السحور

5- سحری

 

- الوجبة التي يتناولها قبل أذان الفجر تسمى (السًّحـُـور) ، ومن الأفضل أن يؤخرها المسلم إلى ما قبل الفجر بقليل ، وهي وجبة مفيدة؛ لأن المسلم يتقوى بها على صيام اليوم التالي .

وہ کھانا جسے روزہ دار فجر کی اذان سے پہلے کھاتا ہے اسے (سحور) کہا جاتا ہے ،بہتر یہ ہیکہ ایک مسلمان اسے فجر سے تھوڑا پہلے تک موخر کرے ،یہ نہایت ہی مفید کھانا ہے کیونکہ ایک مسلمان کو آنے والے دن میں روزہ رکھنے کے لۓ طاقت ملتی ہے ۔

- ينبغي على المتسحر أن يلتزم بآداب الأكل الإسلامية عند تناوله لوجبة السحور ، وخاصة الآداب الواجبة والتي من أهمها:

سحری کھانے والے کے لۓ مناسب ہے کہ وہ سحری کرتے وقت کھانا کھانے کے جو اسلامی آداب ہیں ان کو لازم پکڑے ان میں سے بعض اہم آداب :

1- أن يقول: بسم الله .

2- وأن يأكل بيمينه.

3-وأن يأكل مما يليه

1-(کھانا شروع کرنے سے پہلے )بسم اللہ کہے ۔

2-کھانا داہنے ہاتھ سے کھاۓ ۔

3-کھانا اپنے سامنے سے کھا‎ۓ۔

 

  •  سادسا: الأمور التي ينبغي أن يفعلها الصائم أثناء صومه.

6- چند وہ چیزیں جنھیں روزہ کی جالت میں روزہ دار کو کرنا چاہیۓ ۔

 

- إن استطاع الصائم أن يملأ وقته بالطاعات فهذا أفضل ، كقراءة القرآن ودراسته، والصلاة ، وذكر الله ، والصدقة ، والكلام الطيب، وحسن الخلق ، ويدعو الله طالما هو صائم إلى حين فطره. عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ _رضي الله عنهما_ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ؛ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ؛ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ؛ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ. - وحتى بعدما يفطر الصائم، يستطيع أن يصلي صلاة التراويح مع المسلمين؛ فيكون بذلك نال الأجر العظيم في نهاره وليله.

(روزہ دار کی ہر ممکن کوشش ہو ) کہ وہ اپنے وقت کو اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں گزارے تو یہ بہتر ہے جیسے قرآن کریم کو پڑھنا اور پڑھانا،اللہ کا ذکر کرنا ،صدقہ کرنا،اچھی بات ، اچھے اخلاق کامظاہرہ کرنا،اللہ تعالی سے روزہ کی حالت میں دعا میں لگے رہنا یہاں تک کہ افطاری کا وقت ہوجاۓ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان میں ہوتی تھی جب آپ جبریل علیہ السلام سے ملاقات کرتے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہر رات ہوتی تھی ،ان سے قرآن پڑھتے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت وفیاضی تیزوتند ہواؤں سے کہیں زیادہ تیز تھی ،یہاں تک کہ روزہ دار جب افطاری کرچکے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز تراویح پڑھ سکتا ہے ۔گویا کہ اسطرح سے  دن ورات میں پڑا ہی اجر وثواب حاصل ہوگیا ۔

 

  • سابعا: الأمور التي ينبغي أن ((لا)) يفعلها الصائم أثناء صومه.

7- چند وہ چیزیں جسے ایک روزہ دار کو روزہ کی حالت میں نہیں کرنا چاہیۓ ۔

 

- إذا كان المسلم صائما فعليه أن يبتعد عن المكروهات والمحرمات؛ فلا يفسق، ولا يتكلم بالكلام الفاحش البذيء، ولا يصرخ بصوته أثناء كلامه مع الناس ، وحتى إن أخطأ عليه شخص فليقل له إني صائم. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ؛ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ) صحيح البخاري . وقال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( الصِّيَامُ جُنَّةٌ ؛ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ؛ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ) رواه البخاري .

ایک مسلمان کو روزہ کی حالت میں ہر مکروہ اور حرام کام سے دور رہنا چاہیۓ ،نہ تو فسق وفجور کرے اور نہ زبان سے فحش  اوربیہودہ بات نکالے اور نہ ہی لوگوں سے گفتگو کرتے ہوۓ آوازبلند کرے حتی کہ اگر کوئی شخص اس کے حق میں غلطی بھی کرجاۓ تو اسے چاہیۓ کہ وہ کہے کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹ بات اور اسپر عمل کرنے سے باز نہ آۓ تو اللہ تعالی کو ایسے انسان کے کھانا اور پینا چھوڑنے کی حاجت نہیں ہے ۔صحیح بخاری۔

نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ یہ ڈھال ہے (لہذا روزہ دار کو روزہ کی حالت میں)چاہیۓ کہ وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ (ہمبستری نہ کرے)اور نہ ہی جہالت کے کام انجام دے اور اگر کوئی شخص اس سے قتال کرے یا گالی دے تو یہ کہدے کہ میں روزہ سے ہوں ۔صحیح بخاری۔

 

  • ثامنا: الأعذار التي تبيح عدم صيام رمضان وكيف يقضي الأيام التي أفطر فيها

8-چند وہ عذر جن کی صورت میں رمضان کا روزہ نہ رکھنا مباح اور جائز ہے اور یہ کہ کیسے ان چھوڑے ہوۓ روزوں کی قضاء کریگا ۔

 

- إذا كان الصائم ناسيا فأكل أو شرب فليتم صومه ؛ لأن النسيان عذر شرعي مقبول ، ولا يقضي هذا اليوم بعد رمضان.

- روزہ دار اگر بھول کر کوئی چیز کھا پی لے تو اسے چاہیۓ کہ اپنے روزہ کو پورا کرے اسلۓ کہ بھول چوک یہ شرعی عذر ہے جو مقبول ہے ،اور رمضان کے بعد اس روزے کی وہ قضاء نہیں کریگا۔

- كذلك إذا كان الصائم جاهلا فأكل وشرب فليكمل صومه متى زال عنه الجهل ؛ لأن الجهل عذر شرعي مقبول ، سواء جهل الحكم أو جهل دخول الوقت أو خروجه ، ولا يقضي هذا اليوم بعد رمضان.

- ایسے ہی انسان نے لاعلمی اور جہالت میں کوئی چیز کھا پی لیا تو اسے چاہیۓ کہ جب جہالت ولاعلمی زائل ہوجا‎ۓتو وہ اپنے روزہ کو پورا کرے کیونکہ جہالت شرعی عذر ہے جو مقبول ہے چا ہے جہالت اس کے حکم کی،یا وقت کے داخل اور خارج ہونے کی ہو اور اس دن کی رمضان کے بعد قضاء بھی نہیں کریگا ۔

- وكذلك إذا كان الإنسان مكرها ؛ فأُجبر على أن يأكل ويشرب فليتم صومه ؛ لأن الإكراه عذر شرعي مقبول ، ولا يقضي هذا اليوم بعد رمضان ، وكذلك إذا كان الصائم نائما فاحتلم وأنزل المني فصومه صحيح وليس عليه إلا الاغتسال.

- ایسے ہی انسان کے اوپر جب جبر کیا گیا ہو چنانچہ اسے اس بات پر مجبور کیاگیا ہو کہ وہ کھاۓ اور پئے تو اسے چاہیۓ کہ وہ اپنے روزہ کو پورا کرے اسلۓ کہ جبر واکراہ شرعی عذر ہے جو مقبول ہے لہذا اس دن کی رمضان کے بعد وہ قضاء نہیں کریگا،ایسے ہی اگر روزہ دار سویا ہوا ہو اور اسے احتلام ہونے کی صورت میں منی خارج ہوجاۓ تو اسکا روزہ صحیح ہے صرف اسپر غسل کرنا واجب ہے ۔

- وإذا كان المسلم مسافرا فيجوز له أن يفطر في نهار رمضان ، ثم بعدما ينتهي شهر رمضان يصوم يوما من أيام السنة بدلا عن اليوم الذي أفطره ، وإذا كان الصائم مسافرا لمدة يومين خلال رمضان وأفطر فيهما ؛ فإنه يجب عليه أن يصوم يومين بعدما ينتهي شهر رمضان ، وهكذا إذا سافر وأفطر عشرة أيام في رمضان فيجب عليه أن يصوم بدلا عنها عشرة أيام خلال السنة من شهر شوال إلى شهر شعبان.

جب ایک مسلمان شخص مسافر ہو تو ایسے انسان کے لۓ رمضان کے دنوں میں روزہ چھوڑنا جائز ہے ،ہاں رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بغد سال کے دنوں میں سے کسی دن میں اسے چھوڑے ہوۓ روزہ کی قضاء کریگاجسے اسنے حالت سفر میں چھوڑا تھا اور اگر روزہ دار رمضان کے دوران دو دن کے لۓ مسافر تھا اور اسمیں اسنے  دو روزوں کو چھوڑا تھا تو اسکے اوپر واجب ہے کہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد دو دن کا روزہ قضاء کے طور پر رکھے اور ایسے ہی اگر اسننے سفر کیا اور دس دن کا روزہ رمضان میں چھوڑا تھا تو اسکے اوپر واجب ہے کہ اس دس دن کے بدلے پورے سال میں یعنی (آئندہ شوال سے شعبان تک ) دس دن کا روزہ(قضاء کے طور پر ) رکھے ۔

- وإذا كان المسلم مسافرا ورأى أنه يستطيع الصيام ولا يشق عليه فبإمكانه أن يكمل صومه ؛ لأن الإفطار للصائم المسافر في رمضان رخصة من الله ، يستطيع أن يصوم ويستطيع أن يفطر ؛ فيختار الأسهل عليه .

اگر ایک مسلمان مسافر ہو اوروہ یہ سمجھتا ہو کہ وہ روزہ رکھ سکتا ہے  اوراسے روزہ رکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی تو وہ اپنے روزہ کو پورا کرسکتا ہے اسلۓ کہ مسافر کے لۓ رمضان میں روزہ چھوڑنا اللہ تعالی کی طرف سے رخصت ہے لہذا روزہ رکھ بھی سکتا ہے اور چھوڑ بھی سکتا ہے (حاصل کلام یہ کہ)وہ چیز اختیار کرے جو اسکے لۓ آسان ہو ۔

- وكذلك إذا كان الإنسان مريضا ولا يستطيع أن يصوم في رمضان فيجوز له أن يفطر ، ثم إذا انتهى شهر رمضان يصوم يوما من أيام السنة بدلا عن اليوم الذي أفطره في رمضان ، وإذا كان المسلم مريضا لمدة يومين خلال رمضان وأفطر فيهما ؛ فإنه يجب عليه أن يصوم يومين بعدما ينتهي شهر رمضان ، وهكذا إذا مرض وأفطر عشرة أيام في رمضان فيجب عليه أن يصوم بدلا عنها عشرة أيام خلال السنة من شهر شوال إلى شهر شعبان.

- ایسے ہی ایک انسان جو مریض ہو اور رمضان میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسکے لۓ جائز ہے کہ روزہ چھوڑ دے پھر جب  رمضان کا مہینہ ختم ہوجاۓ تو اس دن کے بدلے میں جسے رمضان میں چھوڑا تھا پورے سال میں کسی دن روزہ رکھ لے اور ایسے ہی اگر ایک انسان مریض تھا اور اسنے رمضان میں دو دن کے روزے چھوڑے تھے تو اسکے اوپر واجب ہے کہ وہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد دو دن کا روزہ رکھکے (اسکی قضاء کرے ) ایسے ہی اگر ایک انسان مریض تھا  اوراسنے دس دن کا روزہ رمضان میں چھوڑا تھا تو اسکے اوپر واجب ہے کہ اس دس دن کے بدلے پورے سال میں یعنی (آئندہ شوال سے شعبان تک ) دس دن کا روزہ(قضاء کے طور پر ) رکھے ۔

- وكل شيء يشبه المرض فإنه يلحق بحكم المريض ، مثل أن يحتجم الصائم فيخرج الدم الفاسد من بدنه أو يتبرع بالدم الصالح من جسمه ؛ فيؤثر ذلك على جسده حتى يصير ضعيفا كالمريض.

اور ایسے ہی ہر وہ چیز جو مرض کے مشابہ ہو تو وہ مریض ہی کے حکم میں ہوگا مثال کے طورپر روزہ دار نے پچھنا لگوایا اور فاسد خون اسکے جسم سے نکل آیا یا اسنے اپنے جسم سے صحیح خون کسی کو تبرع (مدد) کے طور پر دیا جسنے اسکے اوپر اثر کردیا یہاں تک مریض کی طرح ضعیف وکمزور ہوگیا ۔

- والمرأة التي يصيبها الحيض في رمضان يحرم عليها أن تصوم ويجب أن تفطر ، ثم تصوم بعد رمضان بعدد الأيام التي أفطرتها في رمضان,

ایک عورت جسے رمضان میں حیض آجاۓ اسے روزہ رکھنا حرام ہے ،بلکہ اسکے لۓ واجب ہے کہ روزہ چھوڑ دے پھر رمضان کے بعد ان دنوں کا وہ روزہ (قضاء کے طور پر رکھے ) جسے اسنے رمضان میں حیض کے آنے کیوجہ سے چھوڑا تھا ۔

- وكذلك المرأة النفساء حكمها مثل حكم المرأة الحائض.

ایسے ہی اس عورت کا بھی حکم ہے جو رمضان میں بچہ کو جنے یعنی اسکا حکم حائضہ عورت کی طرح ہے ۔

- أما المرأة الحامل والمرأة المرضع فإذا كان الصوم يضرها أو يضر ولدها فيجوز لها أن تفطر ثم تصوم بعد رمضان بعدد الأيام التي أفطرتها في رمضان.

ہاں وہ عورت جو حاملہ ہو یا بچہ کو دودھ پلا رہی ہو اور روزہ رکھنا اسکے لۓ یا اسکے بچے کے لۓ نقصان دہ ہو تو اسکے لۓ جائز ہے کہ وہ روزہ چھوڑ دے پھر ان چھوٹے ہوۓ روزوں کو جسے اسنے رمضان میں چھوڑا تھا رمضان کے بعد (قضاء کے طور پر) انھیں رکھ لے ۔

- أما الإنسان العاجز تماما عن الصيام طيلة العام سواء في رمضان أو في بقية الشهور ، ويحكم الأطباء عليه بأنه لن يستطيع الصيام طيلة حياته بعد الآن ؛ فإنه يجب عليه أن يتصدق بصدقة ، وهي عبارة عن إطعام مسكين عن كل يوم يفطره في رمضان ؛ ولأنه سيفطر ثلاثين يوما ؛ فإنه يتصدق على ثلاثين مسكينابطعام يكفيهم .

- ہاں وہ انسان جو روزہ رکھنے سے کلی طورپر پورے سال چاہے وہ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو عاجزہو اور ڈاکٹروں نے اسکے بارے میں یہ فیصلہ کردیا ہو کہ وہ اب اسکے بعد تادم حیات روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا ہے تو ایسی صورت میں اسکے اوپر واجب ہے کہ وہ صدقہ کرے اور وہ یہ ہیکہ ہر دن جو رمضان میں روزہ چھوڑا ہے اسکے پدلے ایک مسکین کو کھانا کھلاۓ ،کیونکہ وہ 30 دن روزہ نہیں رکھے گا اسلۓ اسے چاہیۓ کہ وہ اس مقدار میں کھانا صدقہ کرے جو تیس مسکینوں کے لۓ کافی ہو ۔

 

  •  تاسعا: إذا انتهى شهر الصيام جاء عيد المسلمين

9-جب رمضان کا مہینہ ختم ہوگیا تو مسلمانوں کے لۓ (عید )آئی.

 

- إذا صام المسلمون شهر رمضان كاملا ، فإن أول يوم بعد شهر رمضان يكون عيدا للمسلمين ، ويسمونه عيد الفــِـطر ، وفي هذا اليوم يفرحون لأنهم أدوا ما عليهم من عبادة الصيام ، ويعبرون عن فرحهم بعدة طرق، منها:

-جب مسلمان پورے ماہ رمضان کا روزہ رکھ چکےتو ماہ رمضان کے بعد جو پہلا دن ہوتا ہے وہ مسلمانوں کے لۓ عید کا دن ہوتا ہے جسے عید الفطر کا نام دیتے ہیں اور اس دن وہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ روزہ جیسی عبادت کو جو ان پر واجب تھی اسے ادا کرچکے ہوتے ہیں اور اپنے خوشی کا مختلف طریقوں سے اظہار کرتے ہیں ۔ان میں سے بعض(مندرجہ ذیل ہیں ۔

 

1- يعبرون عن فرحهم بكثرة شكر الله الذي شرع هذا الصيام وهذا الدين العظيم.

1-اپنے خوشی کا اظہار کثرت سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوۓ کرتے ہیں جس نے اس روزے اور اس دین کو مشروع فرمایا۔

2- ويعبرون عن فرحهم بالتكبير ؛ فيرددون منذ ليلة العيد إلى الصباح: ( الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله الله أكبر الله أكبر ولله الحمد).

2-اپنے خوشی کا اظہار تکبیر سے کرتے ہیں لہذا عید کی رات سے صبح تک تکبیر کو بار بار دہراتے ہیں ۔(اللہ اکبراللہ اکبر لا إله إلا الله الله اكبر الله اكبر ولله الحمد)

3- ويعبرون عن فرحهم بأداء صدقة للمساكين وتسمى صدقة الفـِـطر ؛ فإن كانت أسرة الرجل المتصدق عبارة عن ستة أشخاص ؛ فإنه يخرج ست صدقات للفقراء ؛ مقدار الواحدة من هذه الصدقات 3 كيلو تقريبا سواء من الرز، أو القمح، أو ما يأكله الناس ، ويسلمه للفقراء قبل صلاة العيد.

3-اپنے خوشی کا اظہار مسکینوں کو صدقہ دے کر کرتے ہیں جسے صدقۃ الفطر کہا جاتا ہے ،اگر صدقہ نکالنے والے شخص کا خاندان چھ افراد پر مشتمل ہو تو وہ چھ صدقہ مسکینوں کے لۓ نکالیگا ان صدقات میں سے ایک صدقہ کی مقدار 3 کیلوگرام ہوگا چاہے وہ گیہوں سے یا چاول سے یا وہ چیز جسے لوگ کھاتے ہیں ان سے نکالا جائیگا ۔

4-ويعبرون عن فرحهم بأداء صلاة العيد بعد شروق الشمس بقليل ؛ فيصلون ركعتين جماعة مع المسلمين ، وهم يلبسون لباسا جميلا بهيا ساترا .

4-اپنے خوشی کا اظہار سورج کے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد نماز عید ادا کرکے کرتے ہیں تو وہ دورکعت نماز مسلمانوں کے ساتھ با جماعت ادا کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ عمدہ اور خوبصورت لباس میں ملبوس ہوتے ہیں ۔

وكل تلك الأمور تؤكد أن فرح المسلمين بأعيادهم ليس فيه خمر ولا فجور مثل كثير من أعياد غير المسلمين ، بل هو عيد أدب وشكر وصدقة ومودة وصلة رحم وعفو وتصالح وكل خير . وفوق هذا أنه ينتظرهم العيد الأكبر يوم القيامة عندما يدخلون الجنات خالدين فيها أبدا : فيأكلون ويشربون شبابا وشابات، بلا موت ولا مرض ، ولا هرم ، ولا شقاء ، ذلك هو الفوز العظيم. وهذا ما جعل المسلم يعيش حياته الواقعية في الدنيا بانشراح صدر ؛ فمهما حصلت له من مصائب الدنيا ؛ فإنه سيبقى متفائلا بما عند الله .

یہ تمام چیزیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ مسلمانوں کی فرحت وشادمانی ان کی عیدوں میں ایسی ہوتی ہےکہ اسمیں نہ تو شراب کا دورچلتاہے اورنہ ہی کسی اور طرح کا فسق وفجور ہوتا ہے جیسا کہ بہت سے غیر مسلموں کے عیدوں اور تیوہاروں میں ہوتا ہے ،بلکہ وہ ایسی عید ہوتی ہے جسیں ادب ،شکر ،صدقہ،الفت ومحبت،صلہ رحمی،عفوودرگزر،مصالحت اورہر قسم کی خیر ہوتی ہے ۔چنانچہ تمام مردوعورت بغیر کسی موت ومرض اور  بدبختی وشقاوت کے کھاتے اور پیتے ہیں جو بہت بڑی کامیابی ہے اور یہی وہ چیز ہے کہ ایک مسلم اپنی واقعی زندگی دنیا میں بڑے ہی اطمینان وسکون کے ساتھ گزارتا ہے ایسی صورت میں جیسی ہی دنیا کی مصیبتوں سے وہ دوچارہو لیکن پھر بھی جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ اس کے لۓ تیاررہتے ہوۓ باقی رہتا ہے ۔

؛ قال الله سبحانه : { وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ  (60)} [سورة القصص: آية رقم 60] .

ارشاد باری تعالی :اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ صرف زندگی دنیا کا سامان اور اسی کی رونق ہے ،ہاں اللہ کے پاس جو ہے وہ بہت ہی بہتر اور دیرپاہے کیا تم نہیں سمجھتے ۔(سورۃ القصص آیت نمبر 60).