حج کا طریقہ


حج کا طریقہ

حج کے احکام:

اللہ تعالی نے مسلمانوں پر زندگی میں ایک بار حج کرنا واجب کیا ہے۔

یہاں ہم حج  کے اہم امور کے متعلق بات کریں گے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

 

حج کی ابتدا٫:

جب  آپ حج کا ارادہ کریں، تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوں، یہاں تک کہ آپ اپنے ملک کے متعلقہ میقات تک پہنچ جائیں۔

وہاں آپ احرام کا لباس (تہبند اور چادر) پہنیں گے،  حج کی نیت کریں گے اور یہ تلبیہ پڑھیں گے:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ 

ترجمہ:

میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ،میں حاضر ہوں ،تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہوں، بلاشبہ یقینًا تمام تعریفیں تیرے ہی  لیے ہیں اور تمام نعمتیں  بھی تیری ہی دی ہوئی ہیں اور ساری بادشاہی بھی تیرے ہی لیے ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں۔

 

محظوراتِ احرام (احرام کی حالت میں جن کاموں کے کرنے سے منع کیا گیا ہے):

جب آپ عبادتِ حج میں (احرام کا لباس پہن کر اور نیت کرکے ) داخل ہو جائیں، تو آپ کے لیے درج ذیل کام جائز نہیں:

زمینی جانور (اور چرندپرند) کا شکار کرنا،  بال کاٹنا یا مونڈھنا، خوشبو استعمال کرنا، بیوی سے ہم بستری کرنا، کسی عورت کو شادی کا پیغام دینا، اور عمامہ (پگڑی وغیرہ)،  قمیض، شلوار، ٹوپی اور جرابوں میں سے کچھ پہننا۔ اور عورتوں کے کیے جائز نہیں کہ وہ نقاب اور دستانے پہنیں۔

* حج مکمل کر لینے کے بعد آپ کے لیے یہ تمام مذکورہ چیزیں پھر حلال ہو جائیں گی۔

 

محظورات احرام کے ارتکاب کی صورت  میں ادا کیا جانے والا فدیہ:

اگر آپ نے احرام کی حالت میں منع کیے گئے کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کیا ، تو آپ پر فدیہ دینا لازم ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر جوؤیں پڑ جانے کی وجہ سے آپ کو سر کے بال منڈھوانے پڑ جائیں، تو آپ پر فدیہ دینا لازمی ہو جائے گا ، وہ یہ ہے کہ   تین دن روزے رکھنے پڑیں گا، یا  چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا ، یا بکرا  ذبح کرنا پڑے گا۔

ہاں شکار کرنے کی صورت میں فدیہ مذکورہ  بالا تین چیزوں سے ہٹ کر ہوگا ۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے شترمرغ شکار کیا تو اس کے بدلے اونٹ ذبح کرنے پڑے گا ۔ اس فدیہ میں ذبح کیے گئے جانور کا گوشت فقرا٫ ِ حرم میں تقسیم کیا جائے گا ،آپ خود اس میں سے نہیں کھا سکتے۔

*محظورات احرام  میں سے ہر ایک  کےمتعلق مزید تفاصیل ہیں، جن  کے لیے آپ کو  علما٫ کرام سے رجوع کرنا پڑے گا۔

 

عرفہ کا دن:

ذو الحجہ کے مہینے کی نو (۹) تاریخ  کو آپ عرفہ جائیں گے ، جہاں آپ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کرکے اکٹھے ایک ہی وقت میں پڑھیں گے۔ اوروہاں موجود تمام مسلمانوں کے ساتھ مغرب کے وقت تک،  اللہ رب العالمین کا خوب ذکر کریں گے اور خوب دعائیں کریں گے۔

 

مزدلفہ کی رات:

پھر آپ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں گے ، جہاں آپ مغرب اور عشا٫ (قصر کرکے اور جمع کرکے اکٹھے) پڑھیں گے ، اور پھر فجر تک سوئیں گے۔ پھر فجر کی نماز پڑھ کر اللہ تعالی کا ذکر کریں گے اور دعائیں کریں گے ، یہاں تک کہ آسمان خوب روشن ہو جائے۔

 

دسواں دِن جس کو یومِ حجِ اکبر یا یومِ عید کہتے ہیں:

سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ مزدلفہ سے منی روانہ ہونگے، جہاں آپ "جمرہ کبری" کو صرف سات کنکریاں ماریں گے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہیں گے۔ اور آپ کے پاس اگر قربانی  کا جانور ہو، جیسے: بکرا ، گائے اور اونٹ وغیرہ ، تو اسے ذبح کرکے اللہ تعالی کا قُرب حاصل کریں  گے۔ پھر سر کے بال مونڈھوا لیں گے یا کٹوا لیں گے۔ پھر آپ خانہ کعبہ کا رخ کریں گے، اور پھر اس کے گرد سات چکر لگا کر طواف کریں گے۔  ہر چکر حجرِ اسود سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتا ہے۔

ہر چکر میں آپ جس طرح چاہیں اللہ تعالی کا ذکر کریں اور جو  چاہیں دعا کریں۔ اس طواف کو طواف ِحج (طواف ِزیارت یا طوافِ افاضہ) کہتے ہیں۔ آپ اس کے بعد مقامِ ابراہیم  کی دو  رکعت  ( مسجدِ حرام میں کہیں بھی) ادا کریں گے۔

پھر آپ سعی  کی طرف جائیں گے جہاں آپ صفا اور مروہ دونوں پہاڑوں کے درمیان سات چکر لگائیں گے، (پہلا چکر صفا سے شروع ہو کر مروہ پر ختم ہوگا، دوسرا چکر مروہ سے صفا تک، اس طرح آپ کے سات چکر  مروہ پر ختم ہوں گے)۔

ہر چکر میں آپ جس طرح چاہیں اللہ تعالی کا ذکر کریں اور جو چاہیں دعا کریں۔ اور اس سعی کو حج کی سعی کہتے ہیں۔ اسطرح آپ کے دس (10) تاریخ کےمطلوبہ اعمال مکمل ہو جائیں گے، اور وہ یہ ہیں:

جمرہ کبری کو کنکریاں مارنا ، قربانی کرنا ، طواف اور سعی کرنا ، اور سر کے بال مونڈھوانا یا کٹوانا۔

اور ان اعمال کی ترتیب آگے پیچھے ہو جانے میں کوئی حرج نہیں۔

 

ایامِ تشریق:

پھر آپ واپس منی  لوٹیں گے، اور گیارہ  (11)تاریخ کی رات وہاں گزاریں گے۔

گیارہ تاریخ  کو  ظہر کی نماز کا وقت داخل ہونے پر کنکریاں مارنے کا وقت شروع ہو جائے گا۔ پہلے چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں گے،  پھر درمیانے جمرہ کو، اور پھر اسی طرح بڑے جمرہ کو، اور بڑے جمرہ کے علاوہ دونوں جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد دعائیں بھی کریں گے۔

پھر رات کا وقت ہو جانے پر آپ بارہ  (12)تاریخ کی رات منی ہی میں گزاریں گے۔ بارہ تاریخ کو ظہر کی نماز کا وقت داخل ہونے پر  کنکریاں مارنے کا وقت شروع ہو جائے گا، جیسا کہ گیارہ تاریخ کو کنکریاں ماریں تھیں، اسی طرح پہلے چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں گے، پھر درمیانے جمرہ کو، اور پھر اسی طرح بڑے جمرہ کو،  اور بڑے جمرہ کے علاوہ دونوں جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد دعائیں بھی کریں گے۔

اس کے بعد آپ کو اختیار ہوگا کہ آپ تیرہ  (13)تاریخ  تک منی ہی میں ٹھہرے رہیں، جو کہ زیادہ افضل ہے، اور وہ تمام اعمال انجام دیں جو گیارہ اور بارہ تاریخ کو انجام دیئے ، تو اس کے لیئے آپ تیرہ تاریخ کی رات منی میں ہی گزاریں گے، اور تیرہ تاریخ کو  ظہر کی نماز کا وقت داخل ہونے پر چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں گے، پھر درمیانے جمرہ کو، اور پھر اسی طرح بڑے جمرہ کو، اور بڑے جمرہ کے علاوہ دونوں جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد دعائیں بھی کریں گے۔

اگر آپ بارہ اور گیارہ صرف دو دنوں کے اعمال پر ہی اکتفا کرکے اپنے ملک واپس جانے کا ارادہ کرلیتے ہیں تو آپ پر ضروری ہے کہ آپ بارہ تاریخ کی کنکریاں مار کرمنی سے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے روانہ ہو جائیں اور خانہ کعبہ جا کر طواف وداع کے ساتھ چکر لگا لیں۔

پھر آپ اپنے ملک کی طرف اپنے سفر کاآغاز کریں ، اللہ تعالی سے یہ امید کرتے ہوئے  کہ وہ آپ سے آپ کا حج قبول کرے، اور اللہ تعالی کی رضا کو طلب کرتے ہوئے،  اور یہ کہ آپ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح یوں پاک ہو جائیں جب آپ کی ماں نے آپ کو جَنا تھا، یہ تب ہے کہ اگر آپ نے اپنے حج میں کسی قسم کی اذیت پہنچانے والا کام نہ کیا ہو، یعنی کوئی شھوت والی بات یا کام نہ کیا ہو، اور نہ کوئی نافرمانی، اور نہ ہی کوئی جھگڑا۔

 

یہ ہے حج کا نہایت آسان طریقہ۔

 

حج کی تین قسمین (اِفراد ، قِران،  تمتُّع)

۱- اِفراد

مذکورہ بالا طریقہ حجِ اِفراد کا طریقہ ہے جو کہ عمرہ کے بغیر ہوتا ہے۔

حج کی یہ قسم عمرہ کے بغیر ادا کی جاتی ہے، اسی لیے علما٫ کرام اس حج کو حجِ اِفراد کا نام دیتے ہیں ۔

اس طرح حجِ افراد کرنے والا  ایک طواف اور ایک سعی کرے گا۔

 

حجِ اِفراد، حج کی  وہ قسم ہے جس میں بکراگائے یا اونٹ میں سے کسی جانور کی قربانی دینا ضروری نہیں ، اِس قربانی کو ھَدْي کہتے ہیں۔

اگر آپ تمتع یا قران میں سے کوئی حج کریں ، تو آپ پر لازمی ہے کہ آپ ان مذکورہ جانوروں میں سے کسی ایک جانور کی قربانی دیں۔

 

2- تمتُّع

اگر آپ کا یہ ارادہ ہو کہ ایک ہی سفر  میں حج اور عمرہ  دونوں عبادتیں ادا ہو جائیں،  تو آپ کو چاہئے کہ آپ پہلے عمرہ کرکے حلال ہو  جائیں، پھر مکہ ہی میں ٹھہریں ،یہاں تک کہ ذو الحجہ کی نو تاریخ  ہو جائے تو پھر آپ حج کے تمام اعمال انجام دیں گے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔ اِس طرح آپ نے عمرہ کو حج سے علیحدہ ادا کر لیا۔

عمرہ مختصرًا یہ ہے کہ آپ  (اپنے میقات سے) اِحرام باندھ کر خانہ کعبہ کے گرد  سات چکر لگا کر طواف کریں،  پھر صفا مروہ پر سات چکر لگا کر سعی کریں ، اور پھر سر کے بال منڈھوا لیں یا کٹوا لیں۔

اور اسے علما٫ کرام تمتع  (یعنی فائدہ اٹھانا اور محظوظ ہونا) کہتے ہیں  کیونکہ اس حج کی قسم میں آپ ایک ہی سفر میں دو عبادتوں کے درمیان حلال ہو کر بیوی سے اور خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔

اس طرح حجِ تمتع کرنے والا دو طواف اور دو سعی کرے گا۔

 

3-قِران

حج کی تیسری قسم ہے جسے قِران کہتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ آپ حج اور عمرہ کو علیحدہ علیحدہ ادا کرنے کی  بجائے اکٹھا  ادا کرسکتے ہیں۔

جب کوئی حج قران کا ارادہ کرے تو جب وہ مکہ مکرمہ پہنچے، تو خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگا کر طواف کرلے، اسے طواف قدوم کہتے ہیں۔ اگر وقت نہ ملے، جیسے مکہ پہنچنے میں دیر ہو جائے یا پھر بیماری کی وجہ سے،  تو یہ طواف کرنا ضروری نہیں رہتا۔پھر اس طواف کے بعد حاجی وہی کام کرے گا ،جن کا ذکرحجِ افراد کے بیان میں اوپر گزرا۔ اور حجِ تمتع کرنے والے کی طرح قربانی بھی دے گا۔

ہاں حجِ قران کرنے والے کے لیے یہ رخصت ہے کہ وہ مکہ مکرمہ پہنچتے ہی طواف قدوم کے ساتھ حج کی سعی کر لے۔

اس طرح حجِ قران والا دو طواف اور ایک سعی کرے گا

 

اس طرح آپ کا فرض حج اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا جو کہ اسلام کا پانچواں رکن ہے۔

 

اور چونکہ اسلام اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حوالے کر دینے کا نام ہے، تو آپ یہ ملاحظہ کریں گے کہ حاجی مکمل طور پر اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حوالے کر دیتا ہے، اگرچہ اُسے کچھ اعمال کی حکمتوں کا علم نہ بھی ہو، اِس لیے کہ اُس کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، جو کہ سب سے بڑا بادشاہ اورحکمران ہے، جو جو چاہے حکم ديتا ہے۔

تو جب بندہ اپنے آپ کو  اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے kتو اللہ تعالی اُس سے عنقریب ضرور راضی ہو جائے گا اور اُسے اپنی جنت کی ہمیشگی والی نعمتوں سے راضی کردے گا

 

حج کی سنتیں

حج کے دوران مزید کچھ اعمال ہوتے ہیں، جو کہ واجب نہیں، مگر ان کا عظیم اجر وثواب ہوتا ہے، حيسا کہ آٹھ تاریخ کو منی میں رات گزارنا اور وہاں پانچ نمازیں ادا کرنا، حجرِ اسود کو چومنا، زمزم کا پانی پینا، طواف اور سعی میں مخصوص اوقات میں تیزی کرنا، مختلف جگہوں  اور وقتوں میں خاص ذکر ودعا کا اہتمام کرنا، اور اسطرح کی دیگر سنتیں۔

 

مذكوره بالا حج کی تین قسموں سے کسی قسم کا حج نفلی بھی ادا کیا جا سکتا ہے، اور جو نفلی حج کرے اُس کا اُسے بہت عظیم اجر وثواب ملے گا۔