​خالق (اللہ تعالی )کی بعض صفات سےلیےگئےیوم الحساب(قیامت کےدن)کےاثبات پرقران مجیدکےچند عقلی دلائل


   تمام تعریفیں اللہ کیلئے جوبےنیازاورمکمل صفات کامالک    ہے،تسبیح وتقدیس اس رب کیلئےجوہرقسم کےعیوب ونقائص سےپاک ہےاورہم اس بات کی گواہی دیتےہیں کہ اللہ کےعلاوہ کوئ معبود برحق نہیں  وہ اکیلاہےاسکاکوئ شریک نہیں وہی پیداکرتا،حکم دیتااورحساب وکتاب کرتاہے۔اوراس بات کی بھی کی  گواہی دیتےہیں کہ محمدﷺاللہ کےنبی ورسول ہیں۔اےاللہ!توان پراپنی رحمت وسلامتی نازل فرما۔امین۔اےاللہ!ہم تجھ سےجنت کاسوال کرتے اورجہنم کی آگ سےپناہ چاہتےہیں۔

حمدوثناکےبعدیہ مختصرسامقالہ اوررسالہ قران مجیدکی  ان آیات کےبارےمیں ہےجوعقلی  طورپہ اس بات پہ دلالت کرتی ہیں  کہ خالق(اللہ )کاصرف اقرارواعتراف  کرنایااسکی بعض  صفات   جیسےاسکی حکمت ودانائ ،علم،بادشاہت،حکومت،ربوبیت اورتقدیرکااقرارکرناہی قیامت کےدن کوثابت کرنےکیلئےکافی ہیں۔

اسی بات پہ بنیادرکھتےہوئےموضوع کودوطرح کےلوگوں کیلئےلکھاگیاہے!

(۱)ایمان والوں کیلئے۔یہ اس لیےتاکہ ان کےایمان میں  اوراضافہ ہوجائے ۔

(۲)وہ  لوگ جنہوں نےخالق کااعتراف  توکیامگراپنےاعمال کےحساب وکتاب (قیامت)کےدن کااقرارنہ کرسکےبلکہ انکارکربیٹھے۔

خالق (اللہ)ہی ہرچیزکاپیداکرنےوالا ہے،اس نےپہلےبھی پیداکیااوراب بھی تما م مخلوقات  اوران جیسی چیزوں کوپیداکرتارہےگا

یقینا خالق نےصرف ایک مخلوق کوہی پیدانہیں کیابلکہ اس نےاس  طرح کی لاکھوں کی تعداد میں مخلوقات کوپیداکیاہےجیسےانسان،حیوان،نباتات اورجمادات۔اس بات میں ہرزمانےاورہرجگہ کےلوگوں   کےلیےعقلی دلیل موجودہےکہ خالق(اللہ)کومخلوقات کی تخلیق کرنےوالےعمل کوجاری رکھنےمیں کوئ  چیزرکاوٹ نہیں بن سکتی۔توپھریہی خالق فوت شدہ انسانوں  کودوبارہ قیامت کےدن حساب وکتاب  کیلئےپیداکرےگانتیجتایہ اللہ خالق بھی ہے،خلاق (بہت زیادہ پیداکرنےوالا)بھی ہے،اس نےتمام مخلوقات کوپہلےبھی  پیداکیاہےاب بھی پیداکرتارہےگاجیساکہ اللہ تعالی نےقران مجیدمیں فرمایا۔

جس نےآسمانوں  اورزمینوں کوپیداکیاوہ ان جیسوں  کےپیداکرنےپرقادرنہیں ہے؟بےشک قادرہےاوروہی توپیداکرنےوالا،جاننےوالاہے(یسین۔۸۱)

تم سب کی پیدائش اورمرنےکےبعددوبارہ زندہ  کرناایساہی  ہےجیسےایک جان کوپیداکرناہے،بےشک  اللہ تعالی خوب    سننےوالادیکھنےوالا ہے(لقمان۔۲۸)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اس نےپہلےبھی پیداکیااوراب بھی تمام مخلوقات  اورانکےجوڑوں کوپیداکرتارہےگا

تمام مخلوقات  اوران جیسی چیزوں کوپیداکرنےوالےخالق کےعمل کاکمال تویہ ہےکہ خالق نےانکےجوڑوں کوبھی پیداکیاہےجیسےمردکےمقابلےمیں  عورت،مذکرحیوان کےمقابلےمونث  حیوان،نردرخت کےمقابلےمیں مادہ  درخت  اسکےعلاوہ کئ چیزوں کوپیداکیاتویہ ساراکچھ عقلی طورپراس بات پہ دلالت کرتاہےکہ خالق  انسانیت کوحساب وکتاب (قیامت)کےدن کیلئےدوبارہ پیداکرنے پہ  بھی قادرہےجیساکہ اللہ نےقرآن مجید میں فرمایا۔

کیاوہ (انسان)منی کاایک قطرہ نہ تھاجورحم میں ٹپکایاگیاتھا۔پھروہ لہوکالوتھڑابناپھراللہ نےاسےپیداکیااوردرست بنایا۔پھراس  سےجوڑےیعنی نراورمادہ بنائے۔کیا(اللہ)اس (امر)پرقادرنہیں کہ مردےکودوبارہ زندہ کرے(القیامہ۔۳۷،۴۰)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اسی نےہی  مخلوق کوپہلی  مرتبہ  پیدا کیا

یقیناجوخالق کااقرارکرتاہےتووہ اس بات کابھی اقرارکرتاہےکہ اسی نےپہلی مرتبہ پیداکیاہےاورجوپہلی مرتبہ پیداکرسکتاہے  دوبارہ  کئ مرتبہ پیداکرنےپربھی وہ قادرہےجیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

اوروہی ہےجوپہلی بار مخلوق  کوپیداکرتاہے،پھراسےدوبارہ پیداکرےگااوریہ تواس پہ بہت ہی آسان ہے(الروم۔۲۷)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اسی نےہی بڑی بڑی چیزوں  کوپیداکیا

جوبوجھل چیزاٹھاسکتاہو ہلکی چیزتووہ بڑی آسانی  سےاٹھالیتاہےتوپھروہ(اللہ)جوبڑی بڑی مخلوقات(آسمانوں وزمین)کوپیداکرسکتاہےچھوٹی مخلوقات (انسانوں)کوتوبڑی آسانی  سےپیداکرسکتاہےجیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

آسمان وزمین  کی زمین پیدائش یقیناانسان کی پیدائش سےبہت بڑاکام ہےلیکن اکثرلوگ  نہیں جانتے۔اندھااوربینابرابرنہیں نہ وہ لوگ  جوایمان لائےاورنیک اعمال کیےبدکاروں کے(برابرہیں)تم بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتےہو۔بےشک قیامت آنےوالی ہےلیکن بہت سےلوگ ایمان نہیں لاتے۔(غافر۵۹۔۵۶)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اسی نےہی   ہرطرح کےحالات کوپیداکیا

مخلوقات کےحالات تبدیل ہوتےرہتےہیں کبھی سوناکبھی جاگنا،کبھی قوت کبھی کمزوری،کبھی زندگی کبھی موت،کبھی چاندکی پہلی رات کبھی چودہویں رات،کبھی سورج و چاند کاطلوع ہونااورکبھی  غروب ہونا توعقلی طورپربھی جوخالق ایک حالت کودوسری حالت میں تبدیل کرسکتاہےیقیناوہ خالق دنیاکی زندگی  کی حالت کوحساب   وکتاب(قیامت)کی حالت میں بھی تبدیل کرسکتاہے جیساکہ اللہ نےقرآن مجید میں فرمایا۔

جب آسمان پھٹ جائےگا۔اوراپنےرب کےحکم پرکان لگائے گا۔اوریہی  اس کےلائق ہے۔اورجب زمین (کھینچ کر)پھیلادی جائے گی۔اوراس   میں  جوکچھ ہے اسےوہ اگل دےگی اورخالی ہوجائےگی۔اوراپنےرب کےحکم پرکان لگائےگی  اوریہی اسےلائق ہے۔اےانسان!تواپنےرب سےملنےتک  یہ کوشش  اورتمام کام اور محنتیں  کرکےاس سےملاقات  کرنےوالاہے۔تو(اس وقت)جس شخص کےداہنےہاتھ میں نامہ اعمال دیاجائےگا۔تواسکاحساب بڑی آسانی سےلیاجائےگا۔اوروہ اپنے اہل کیطرف ہنسی خوشی لوٹ آئےگا۔ہاں جس کانامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھےسےدیاجائےگا۔تووہ موت کو بلانےلگےگا۔اوربھڑکتی  جہنم میں  داخل ہوگا۔یہ شخص  اپنےگھروالوں میں بہت  خوش  تھا۔اسکا خیال تھا کہ اللہ کی  طرف لوٹ کرہی نہ جائےگا۔کیوں نہیں،حالانکہ اسکارب اسےبخوبی دیکھ رہاتھا۔مجھےشفق کی قسم!۔اوررات کی!اوراس کی جمع کردہ چیزوں کی قسم!۔اورچاندکی جب  وہ بھرجاتاہے۔یقیناتم ایک حالت سےدوسری حالت پرپہنچوگے۔انہیں کیاہوگیاکہ ایمان نہیں لاتے۔(الانشقاق۔۱،۲۰)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اسی نےہی زندگی اورموت  کوپیداکیا

عقل ہرروزانسانوں اورحیوانوں  میں مردوں کوزندہ کرنےاورزندوں  کومردہ کرنےوالےعمل  کودیکھتی اورمشاہدہ کرتی ہے۔اوریہ سب کچھ اس بات پہ دلالت کرتاہےکہ خالق جب چاہےجس کوچاہےزندہ کرنےاورمارنےپرقدرت رکھتا ہےتویقیناعقل کوبھی یہ  بات  تسلیم کرنےمیں  کوئ  رکاٹ نہیں ہے کہ خالق جب چاہےکسی بھی مردے کودوبارہ زندہ کرسکتاہےجیساکہ اللہ نےقرآن مجید  میں فرمایا۔

بےشک ہم ہی زندہ کرتےاورمارتےہیں ۔اورپھرہماری ہی طرف لوٹ  کرآناہے(ق۔۴۳)

خالق(اللہ)ہی پیداکرنےوالاہے،اسی نےہی نباتات(درختوں اوربوٹیوں)میں بھی زندگی اورموت  کوپیداکیا

یقیناخالق(اللہ)کی زندہ کرنےاورمارنےوالی صفت کاکمال تویہ ہے مردہ زمین سےزندہ (لہلہلاتی)جڑی بوٹیاں   نکالتاہے،توجوخالق لاکھوں زندہ  جڑی بوٹیوں اورپودوں کومردہ زمین سے نکالنےاورزندہ کرنےپرقادرہےوہ انسانوں کوحساب وکتاب(قیامت)والےدن  کیلئےدوبارہ زندہ کرنےپربھی قادر ہے جیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

تودیکھتاہےکہ زمین (بنجراور)خشک ہے،پھرجب ہم اس پربارش برساتے ہیں تووہ ابھرتی ہےاورپھولتی ہےاورہرقسم کی رونق دارنباتات اگاتی ہے۔یہ اسلیے ہے کہ اللہ ہی حق  ہےاوروہی مردوں کوزندہ کرتا ہےاوروہی ہرچیزپرقدرت رکھنےوالا ہے۔اوریہ کہ قیامت قطعاآنےوالی ہے۔جس میں  کوئ شک وشبہ نہیں اوریقینااللہ قبروالوں کودوبارہ زندہ کرےگا(الحج۔۵،۷)

خالق(اللہ)ہی دانااورحکمتوں والاہے

یقیناخالق نےحکمت  ودانائ  والوں کی عقلوں اورحکمت ودانائ کی تمام انواع واقسام کوپیداکیاتووہ حکیم  (دانا)ہےاورحکیم (دانا)کیلئےیہ ضروری ہےکہ وہ اچھےکواچھااوربرےکوبرابدلہ دےجس طرح کسی بھی ادارےکامدیراورمنتظم ادارےمیں اچھاکام کرنےوالےاورکام میں سستی کرنےوالےکواسی طرح کابدلہ دیتاہے۔جس نےیہ گمان کیاکہ حکیم ودانا،مومن بندوں پہ شفقت کرنےوالا،گناہ گاروں پہ قدرت رکھنےوالارب نیکی اورگناہ کرنےوالےلوگوں کےساتھ ایک جیساسلوک  کرےگایعنی اللہ نےانکوفضول پیداکیاہےاوربغیرحساب وکتاب کےچھوڑدےگاتوگویااس نےاللہ کوفضول،ناکام،بےوقوف اورکھیل تماشاکرنےوالارب قراردینےکی ناکام کوشش کی ہے۔جیساکہ قرآن مجید میں اللہ نےفرمایا۔

کیاتم یہ گمان کیےہوئےہوکہ ہم نےتمہیں یونہی بیکارپیداکیاہےاوریہ کہ تم  ہماری طرف لوٹائےہی نہ جاوگے(المومنون۔۱۱۵)

اورہم نےآسمان وزمین اورانکےدرمیان کی چیزیں کوناحق پیدانہیں کیا۔یہ گمان توکافروں کاہےسوکافروں کیلئے خرابی ہے آگ کی۔کیاہم  ان لوگوں کوجوایمان لائےاورنیک عمل کیےان کے برابرکردیں جو(ہمیشہ)زمین  میں فسادمچاتےرہےیاپرہیزگاروں کوبدکاروں جیساکردیں گے(ص۔۲۷،۲۸)

احسان کابدلہ احسان کےسواکیاہے(الرحمن۔۶۰)

کیاجولوگ برائیاں کررہےہیں ،انہوں نےیہ سمجھ رکھاہےکہ وہ ہمارےقابوسےباہرہوجائیں گے،یہ لوگ کیسےبری تجویزیں کررہےہیں(العنکبوت،۴)

خالق(اللہ)ہی اچھی طرح جاننےوالاہے

یقیناکسی بھی ادارےکامنتظم ومدیراورذمہ داراگرادارےمیں کام کرنےوالوں  کےحاضروغائب ہونے،کام کی درستی وخرابی کوجانےکےباوجودمحاسبہ (پوچھ گچھ)نہ کرےتواس مدیرومنتظم  کوبےوقوف سمجھاجاتاہےکیونکہ اس نےیہ تمام تر معلومات بلافائدہ اکٹھی  کی ہیں  ان سےفائدہ نہیں اٹھایاتویہی بات ہمیں اس خالق کےمتعلق بھی کہناپڑےگی جواپنےوسیع ترعلم کےساتھ تمام  مخلوقات اورانکے ظاہری وباطنی   کواعمال کوجانتاہےتووہ ذات جس کےپاس اپنی مخلوق کی باریک ترین  معلومات ہوں یقیناوہ انکوبلافائدہ جمع نہیں کرےگابلکہ حساب وکتاب اورپوچھ گچھ  کرنےکیلئےجمع  کرےگا جیساکہ اللہ نےقرآن مجید میں فرمایا۔

جس دن اللہ ان سب کواٹھائےگا،پھرانہیں ان کےکیےہوئےاعمال  سےآگاہ کرےگا،جسےاللہ نےشمارکررکھااوروہ اسےبھول گئے  تھے،اوراللہ ہرچیزسےواقف ہے۔کیاتونہیں دیکھاکہ اللہ آسمانوں اورزمینوں کی ہرچیزسےواقف ہے،تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی  مگراللہ ان کاچوتھاہوتاہےاورنہ پانچ کی مگرچھٹاان کاوہ ہوتاہےاورنہ اس سےکم کی اورزیادہ کی  مگروہ ساتھ  ہی ہوتاہےجہاں بھی وہ ہوں پھرقیامت کےدن انہیں  ان کےاعمال سےآگاہ کرےگابےشک اللہ ہرچیزسےواقف ہے(المجادلہ۔۶،۷)

اورکفارکہتےہیں کہ ہم پرقیامت نہیں آئےگی آپ کہ دیجئے!کیوں نہیں!مجھےمیرےرب کی قسم!جوعالم الغیب ہےکہ وہ یقیناتم پرآئےگی اللہ سےایک ذرے کےبرابرکی چیزبھی مخفی نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس  سےچھوٹی اوربڑی ہرچیزکھلی کتاب میں موجودہے(سبا۔۳)

خالق(اللہ)تمام کاموں کاانجام اسی کےذمےہیں  اوراسی کےطرف  پلٹ کرجاناہےکیونکہ وہی پرورگار،نگران اوربادشاہ ہے

الملک(بادشاہ)یقیناجس  نےمخلوقات کوپیداکیاوہی انکامالک  ہےاورعقل بھی اس بات کوتسلیم کرتی ہےکہ ایک دن آئےگاجب تمام مخلوقات نےواپس  رب کی  طرف پلٹ  کرجاناہےاوراس بات کی مکمل  تحقیق کی جائے گی  کہ واقعتامخلوقات اپنےپیداکرنےوالےرب  اورمالک  کےتابع تھی کہ نہیں ؟۔اللہ نےقرآن  مجید میں فرمایا۔

بلکہ ان لوگوں نےبھی ویسی ہی بات کہی جوپہلےلوگ کہتےچلےآئے۔انہوں نےکہا،کیاجب ہم مرکرمٹی  اورہڈیاں  ہوجائینگے  کیاپھر بھی ہم ضروراٹھائےجائیں گے؟ہم سےاورہمارےباپ  دادوں سےپہلےسےہی یہ وعدہ ہوتاچلاآیاہےکچھ نہیں یہ توصرف پہلےلوگوں کےافسانےہیں۔پوچھیےتوسہی کہ زمین  اوراس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟بتلاواگرجانتےہو؟فوراجواب دیں گےکہ اللہ کی ۔کہہ دیجیئےکہ پھرتم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔(المومنون۔۸۱،۸۵)

آسمانوں اورزمین  کی  بادشاہی اسی کی ہےاورتمام کام اسی کی  طرف لوٹائے جاتےہیں۔(الحدید۔۵)

الولی(نگران)انسانیت کااپنےخالق کی طرف پلٹ کرآنالازم وضروری ہےکیونکہ  وہی انکاولی(نگران)ہےوہی ہےجوزندہ کرتااورمارتاہے،اسی نے انسانوں اورحیوانوں کوپیداکیاپھران سےان کی نسل واولادکوآگےچلایا،اسی نےآسمان وزمین کوپیداکیااوران کی چابیاں بھی اسی کےپاس ہیں ، اسی کےپاس روزی ،رزق کےخزانےہیں جسے چاہےاس کےرزق کوبڑھادیتاہےاورجسےچاہےاس کےرزق کوتنگ کردیتاہےاسی کومکمل قدرت اورعلم حاصل ہےاس جیساکوئ نہیں ۔سوجب وہ ولی  ونگران ہےتوپھرانسانیت  کےلئےلازم ہےکہ ایک ایسادن  ہو جس میں  وہ اپنےاس مولی وآقاکی طرف   لوٹیں جس کےذمےتمام کاموں کاانجام ہے۔جیساکہ اللہ نےقرآن مجید میں فرمایا۔

اوروہی اپنےبندوں کےاوپرغالب ہےبرترہےاورتم پرنگرانی کرنےوالے(فرشتے)بھیجتاہےیہاں تک کہ جب تم میں کسی کوموت آپہنچتی ہےتواس کی روح  ہمارےبھیجےہوئے (فرشتے)قبض کرلیتےہیں اوروہ ذراکوتاہی نہیں کرتے ۔پھرسب اپنےمالک  حقیقی کےپاس لائےجائیں گےخوب سن لوفیصلہ اللہ ہی کاہوگااوروہ بہت جلد حساب لےگا۔(الانعام۔۶۱،۶۲)

الرب (پروردگار)تمام مخلوقات کواپنےخالق کی طرف  لازمی  پلٹناہےکیونکہ  اسی  رب نےانکی پرورش کی ہے   اوروہ اسی کے پیروی کرنےوالےبندےہیں وہی  تمام جہان والوں کاخالق،پروردگاراوربادشاہ ہےجیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

اورانہوں نےکہاـکیاجب ہم زمین  میں رل مل جائیں گےکیاپھرنئی پیدائش  میں آجائیں گے؟بلکہ (بات یہ ہے )کہ وہ لوگ اپنےپروردگار کی ملاقات کےمنکر ہیں۔کہ دیجیئے کہ تمہیں موت  کا فرشتہ فوت کرےگاجوتم پرمقررکیاگیاہے،پھرتم اپنےپروردگارکی طرف لوٹائےجاوگے۔(السجدہ۔۱۰،۱۱)

اوریہ کہ آپ کےرب کی طرف ہی پہچناہے(النجم،۴۲)

آج توتیرےپروردگارہی کی طرف قرارگاہ ہے(القیامہ۔۱۲)

یقینالوٹناتیرےرب کی طرف ہے(العلق۔۸)

یقین جانو کہ لوگ اپنےرب کےروبروجانےمیں شک میں ہیں ،یادرکھوکہ اللہ ہرچیزکااحاطہ کیےہوئےہے    (فصلت،۵۴)

آسمانوں اورزمین میں جوبھی ہیں سب کےسب اللہ کےغلام بن کرہی آنےوالےہیں(مریم۔۹۳)

خالق (اللہ)نےہرچیزکادرست اندازہ  لگایااور سب سےاہم چیز کہ اس نےدنیاکوامتحان کی جگہ بنایاہے

یقیناجوکسی  بھی انسان (طالب علم یاکسی  ادارےمیں کام کرنےوالے)کاامتحان لیناچاہتاہوتووہ اس   کےلیے مناسب جگہ ،مناسب وقت اورمناسب حالات   بھی مہیاکرتاہے۔اسی طرح   خالق (اللہ)نےبھی دنیاکوامتحان کی جگہ بنایاہے تواسی لیے انسان  اوراس کےبعد آنےوالی  اسکی نسلوں کاامتحان ان کےسن تمییزیعنی  سمجھداری  والی عمرکوپہنچتےہی شروع ہوجاتاہےجیساکہ اللہ نےقرآن   مجیدمیں فرمایا۔

اوروہی ہےجس نےتم کوزمین  میں خلیفہ  بنایااورایک  کادوسرےپررتبہ بڑھایاتاکہ تمہیں ان چیزوں میں آزمائےجواس نےتم کودی  ہیں بےشک آپ کارب جلدسزادینےوالاہے  اوربےشک وہ  واقعی بڑی       مغفرت کرنےوالا ،مہربانی کرنےوالاہے(الانعام۔۱۶۵)

اوراللہ نےعام انسانوں کےامتحان کی طرح آخرت کے امتحان (قیامت)کے  لیےبھی وقت مقررکیاہےجیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

کیا  ان لوگوں نےاپنی جانوں میں غورنہیں کیا؟کہ اللہ نےآسمانوں اورزمین کواوران کےدرمیان جوکچھ ہےسب کوبہترین قرینےسےمقرروقت تک کےلیے(ہی)پیداکیاہے،ہاں ،اکثرلوگ  یقینااپنےرب کی ملاقات کےمنکر ہیں (الروم۔۸)

اوراللہ نےیہ بھی بتادیاکہ انسان کےمرنےکےساتھ ہی اس کےامتحان کاوقت ختم ہوجائےگادوبارہ ری ٹیسٹ اورسپلمنٹری نہیں ہوگی۔جیساکہ اللہ نےقرآن   مجیدمیں فرمایا۔

کیاانہوں نےدیکھانہیں کہ ان سےپہلےبہت سی قوموں کوہم نےغارت کردیاکہ وہ ان کی طرف لوٹ کرنہیں آئیں گے۔اورنہیں ہےکوئ جماعت مگریہ کہ وہ سب ہمارےسامنےحاضرکیےجائیں گے(یس۔۳۱،۳۲)    

بلکہ امتحان  کیلئےجوچیزیں ضروری  ہوتی ہیں اللہ نےوہ سب بھی مہیاکردی ہیں جیسےبادلوں اورکنووں سےپانی نکالنا،جانوروں کےگوشت اوردرختوں  کےپھلوں ،پھو لوں سےخوراک مہیاکرنا،اوقات اورسمتوں کےتعین کےلئےسورج ،چانداورتاروں کومسخرکرنا،نہروں اوردریاوں کوکھانےپینےکی اشیا،زیب وزینت اورکشتیوں میں سوارہونےکیلئےتابع کرنا،نسل کوبڑھانےاوراس میں اضافہ کرنےکیلئےمردکیلئے(جوڑے)عورت  کوپیداکرنا،ہواخوری  کرنےاورموسم کومعتدل رکھنےکیلئےہواکوپیداکرنااوراس طرح کی کئی نعمتوں  کومہیافرمایاہے۔جیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔

یقیناہم نےاولادآدم کوبڑی عزت دی اورانہیں خشکی وتری کی سواریاں دیں اورانہیں پاکیزہ چیزوں کی  روزیاں دیں اوراپنی بہت     سی مخلوقات  پرانہیں فضیلت عطاکی ہے۔جس دن ہم ہرجماعت کواس کےپیشواسمیت بلائیں گے،پھر جن کا بھی اعمال نامہ  دائیں  ہاتھ میں دےدیا  گیا  وہ تو شوق سےاپنانامہ اعمال پڑھنےلگیں گےاوردھاگےکےبرابر،یعنی ذرہ برابر بھی ظلم نہ کیےجائیں گے۔اورجوکوئ اس جہان میں اندھارہا،وہ آخرت میں بھی اندھااورراستےسےبھٹکا ہوارہےگا(بنی اسرائیل۔۷۰،۷۲)

اوراسی  طرح فرمایا۔

اوربےشک ہم نےتم کوزمین پررہنےکی جگہ دی اور ہم نےتمہارےلیےاس میں سامان رزق پیداکیا،تم   لوگ بہت کم ہی شکر کرتے ہو(الاعراف،۱۰)

اوراللہ نےامتحان سےمتعلقہ مواد(نصاب)اورتمام وسائل و ذرائع بھی مہیافرمائےبلکہ ایسےامورجن کے  ساتھ اچھےیابرےطریقےسےمعاملات کرناممکن تھاسب کوآسان فرمادیا مثال کےطورپرمال کوجائزیاناجائزطریقےسےحاصل کرنا،ایسی چیزیں اور آلات جنکےذریعےلوگوں کوقتل کیاجاسکتاہےیاقتل سےبچاجاسکتاہے،پاکیزہ اورصاف  یاگندے اورپلید کھانےحاصل کرنا،نکاح کےذرائع،طریقےاورزناسےبچنےکےراستے۔الٖغرض سب کچھ انسان کی  پہنچ میں کردیاجیساکہ اللہ نےقرآن  مجیدمیں فرمایا۔ہرجاندارموت کامزہ چکھنےوالاہے  ۔ہم بطریق امتحان تم میں سےہرایک کوبرائ  بھلائ میں مبتلاکرتےہیں اورتم سب ہماری طرف  ہی  لوٹائےجاوگے۔ (الانبیا ۔۳۵)

  • خاتمہ

جوبھی ان واضح دلائل  کامطالعہ کرلینےکےبعدحساب وکتاب (قیامت)کےدن کاانکارکرےتویقیناوہ  حالات وواقعات ،عقل اورفطرت سلیمہ سےبہت دورگمراہ کن خیالوں میں زندگی بسرکررہاہےاوراس نےتوایساانکارکیاکہ اپنےاس اقرارواعتراف کوبھی بھلابیٹھاجواس نےیہ کہ  کےکیاتھاکہ و ہ  خالق(اللہ)ہی ہر چیزکوپیداکرنےوالا،بہت زیادہ پیداکرنےوالا،ہرچیزکونئےسرےسےپیداکرنےوالا،بڑی بڑی مخلوقات  کوپیداکرنےوالا،ایک دوسرےسےملتی جلتی چیزیں پیداکرنےوالاہے،رات ،دن، سونا،جاگنا اورزندگی  وموت کوبنانا، نباتات کواگانا،حالات کوبدلنا،یہ سب  اس حکمتوں والے،دانا اورعدل وانصاف کےساتھ فیصلہ کرنےوالےخالق(اللہ )کی قدرت کاکرشمہ ہےجواچھےلوگوں کےساتھ احسان مندی،قدردانی،مہربانی  وشفقت والاسلوک کرنےوالااورمجرموں(گناہ گاروں)کےساتھ سختی  کےساتھ انتقا م  وبدلہ  لینےوالا طاقت ور،غالب،عزت وبادشاہت والارب ہےوہ  ہرچیزپہ مکمل قدرت رکھنے،ہرچیزپہ فوقیت وبرتری رکھنے،ہرچیزکوگھیرنے،متکبر،زبردست،سخت گرفت کرنے،خوب دیکھنے،سننے،جاننے،نگرانی کرنے،گواہی دینے،خبررکھنے،غیب وحاضرکوجاننے اورحق کوواضح کرنےوالاباریک بین رب ہےاسی خالق(اللہ)کےذمےتمام کاموں کاانجام ہے،اسی کی طرف سب  نےپلٹ کرجاناہے،کیونکہ وہی ہمارےتمام معاملات کانگران ہے،اس جیساکائنات  میں اورکوئ نہیں،وہی ہےجوہمارےکاموں کودیکھتااورباتوں کوسنتاہے،وہی ہےجس نےآسمان وزمین کوپیداکیااسی کےپاس  انکی چابیاں ہیں،وہی ہےجوبندوں کےروزی ،رزق کی کشادگی وتنگی کافیصلہ فرماتاہے،وہی ہےجونسل کوآگےبڑھانےکےاسباب پیدافرماتاہے،توگویاوہی اصل مولی ،مالک    اورآقا ہےجس پرہمیں  مکمل اعتماد اورتوکل کرناچاہیے۔

یقیناخالق(اللہ)  کےذمےہی تمام معاملات کاانجام ہے وہی مرجع  وماوی ہےوہی  مکمل با دشاہت  والارب العالمین ہےجس نےدرست اندازےلگائےہیں۔

توحساب وکتاب(قیامت)کےدن کاانکارکرنےوالادراصل خالق(اللہ)کی سطرف نقص وعیوب کومنسوب کرتاہے،مردوں کودوبارہ زندہ کرنےسےعاجزآجانےکیصورت میں بےوقوفی وجہالت کومنسوب کرتاہے،مخلوقات کوبغیرحساب وکتاب کےچھوڑدینے کی صورت میں عاجزوکمزوری کو منسوب کرتاہے،مجرموں(گناہ گاروں)سےانتقام نہ لینےکی صورت میں ظلم کومنسوب کرتاہے،نیک لوگوں کااکرام نہ کرنےکی صورت میں فقیری ومحتاجگی کومنسوب کرتاہے،اس کےپاس مکمل بادشاہت نہ ہونےیاپھر اسکی  بادشاہت ونگرانی میں  رہنے والی چیزوں کااسکی طرف واپس  نہ پلٹنےکی صورت میں بندہ وغلام ہونےکی صفت منسوب کرتاہے،بلکہ وہ توایسانگران  رب ہے جس کےذمےتمام امور کاانجام ہے۔

یہ مختصرسامقالہ قرآنی آیات  کےان دلائل پہ مشتمل ہےجوعقلی طور پرحساب وکتاب (قیامت)کےدن کےوجود کوثابت کرتی ہیں ۔