وضو


وضو

 

  1. وضو کی فضیلت :

        عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جس آدمی نے اچھی طرح وضو کیا اس کے تمام اعضاء کی خطائیں اس کے نا خنوں کے ذریعہ نکل جاتی ہیں ۔]مسلم[

 

  1. وضو کرنے کاطریقہ :

        وضوکے شروع میں ''بسم اﷲ'' پڑھیں۔ پھر دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین بار دھوئیں ۔ پھر ایک چلو لے کر آدھے سے کلی کریں ، اور آدھا ناک میں ڈالیں ،پھر ایک چلو لے کر آدھے سے کلی کریں ، اور آدھا ناک میں ڈالیں ،پھر ایک چلو لے کر آدھے سے کلی کریں ، اور آدھا ناک میں ڈالیں .(ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہُ فِی التَّورِ فَمَضْمَضَ وَ اِسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ)  ]بخاری[

        پورے تین چلوں سے تین مرتبہ کلی کرنا ، پھر تین چلوؤں سے تین با ر ناک میں پانی ڈالنا اورناک صاف کرنا بھی ثابت ہے (ثُمَّ مَضْمَضَ وَ اِسْتَنشقَ ثَلَا ثاً)پھرتین بار کلی کی اور تین بار ناک میںپانی ڈالا ۔]ابو داوؤد[پھر تین بار منہ دھوئے ( ثم غسل وجھہ ثلاثا) ]بخاری [۔ پھر  چلو میں پانی لے کر اسے داڑھی کا خلال کریں ۔پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھوئیں اور اپنا بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھوئیں ۔پھر ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال کریں ۔ اگر انگوٹھی پہنی ہو تو اس کو ہلا لیں۔ پھر سر کا مسح کریں : وہ اس طرح کہ دونوں ہاتھوں کو ترکرکے سر کے اگلے حصہ سے شروع کرکے پیچھے کو لے جائیں اور صحیح مسلم میں ( الی قفاةِ)یعنی ہاتھوں کو گدی تک لے جائیں۔ پھر پیچھے سے اسی جگہ لے آئیں جہاں سے شروع کیا تھا . ]بخاری ومسلم[یہ عمل ایک دفعہ کریں۔پھر کانوں کا مسح اس طرح کریں کہ دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوںسے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کامسح کریں۔اورانگوٹھوں کے ساتھ کانوں کی پشت کا مسح کریں ۔ اور کانوں کے مسح کے لئے پانی لیں ۔اور پھر دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئیں۔پھر بایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئیں۔پھر پاؤں کی انگلیوں کا خلال کریں۔پاؤں کی انگلیوں کا خلال چھوٹی انگلی (چھنگلی)سے کریں۔ گردن کے مسح کا صحیح احادیث میںکہیں ذکر نہیں آیا ہے۔ امام نووی  فرماتے ہیں گردن کا مسح کرنے کی حدیث بالاتفاق ضعیف ومن گھڑت ہے۔

ضروری بات:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وضو کے اعضاء بعض اوقات ایک مرتبہ ،اور بعض اوقات دو مرتبہ،اور بعض اوقات تین مرتبہ دھوتے تھے ۔

 

  1. وضو کے بعد کی دعا:

١۔(اَشْھَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّااللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ ، أَللَّھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَابِیْنَ ، وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ)  '' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں ۔  اے اللہ! مجھے توبہ کرنے اور پاک رہنے والوں میں سے بنا'' ۔( مسلم سنن الترمذی)

        یہ دعا پڑھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیںکہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔

 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

  1. موزوں ،پگڑی اور جرابوںپر مسح کرنا:

١۔طہارت کی حالت میں پہنے ہوئے موزوں پرمسح کرنا جائز ہے،]مسلم[

٢۔رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے وضوکرتے وقت صحابہ کو پگڑی اور جرابوںپرمسح کر نے کا حکم دیا۔]ابوداؤد[مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن تین رات۔

 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

 

تیمم

 

  1. تیمم کرنے کا طریقہ

    رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلمنے ایک صحابی کو تیمم کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا:''تیرے لئے صرف یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا، کہ آپ نے اپنے  دونوں ہاتھ زمین پرمارے اور ان پر پھونک ماری پھر چہرے کا مسح کیا  پھر دونوں ہاتھوں کا(پہلے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دائیں ہاتھ کی پشت اور پھر دائیں کی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت پرمسح کیا)۔]بخاری[

 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

 

  1. غسل جنابت:

حضرت میمونہ رضی اﷲعنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلمنے غسل کا ارادہ فرمایاتوسب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے ،پھر شرمگاہ کودھویا،پھر ہاتھ کو مٹی پر رگڑاپھر اس کو دھویا پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لئے وضو کرتے ہیں۔پھر سر پر پانی ڈالااور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچایا،تین بار سر پر پانی ڈالا۔ پھر سارے بدن پر پانی ڈالا،پھر جہاں آپ نے غسل کیا تھااس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے۔]بخاری:٢٤٩[





ترجمة المقال