كیا مسیح عیسی بن مریم کو اللہ کا بیٹا قرار دینا اللہ کی شان میں گستاخی ہے ؟


شروع الله کی نام سے جو سب کا مولی ہے

 

كیا مسیح عیسی بن مریم کو اللہ کا بیٹا قرار دینا اللہ کی شان میں گستاخی ہے ؟

 

مسیحیوں کا دین كہتا ہے کہ اللہ رب ذوالجلال  كا بیٹا ہے. جبکہ دینِ اسلام اِس سے انکاری ہے.

 

اور حق بات جاننے کے لیے ہمیں چاہیئے کہ ہم انصاف کے ساتھ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے درج ذیل سوالات پر غور کریں
 

*اگر ( بالفرض نعوذ باللہ)اللہ تعالی نے اپنا بیٹا بنایا ہے ،تو کیا  یہ اللہ تعالی کے حق میں باعثِ مذمت اور نقص والی بات ہوگی یا  باعثِ مدح وكمال ؟


 

ہمیں چاہیئے کہ ہم انصاف کے ساتھ درج ذیل جواب پر غور  وفكر کریں


 


 

اگر بیٹا بنانے کی صفت میں خالق کو مخلوق سے تشبیہ دی جائے تو اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ خالق ہر لحاظ سے مخلوق جیسا ہے۔


 

توآئیے اب ہم جانیں کہ وہ کونسي  باتیں ہیں جو انسان پر لازم آتیں ہیں اگر وہ  یہ کہے کہ  اللہ کا کوئی بیٹا ہے (نعوذ باللہ) ۔


 

1-پہلی بات یہ کہ بیٹے کے وجود سے لازمی بات ہے کہ باپ اپنےبیٹے کا محتاج ہوگا اور وہ اُسکی حاجات پُوری کرے گا (جیسے بیٹے کا باپ کے کاموں میں ہاتھ بٹانا)


 

ایسی صورت میں یہ بات واضح  ہے کہ باپ  اپنی بے نیازی اور خود مختاری کی صفت کھو بیٹھے گا۔ لہذا قرآن کریم میں درج ذیل عقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے (( قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَداً سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ )) [سورۃ یونس: 68]،  ترجمہ : انہوں نے کہا کہ اللہ نے  کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے،  وہی بے پرواہ ہے۔


 

تو جو کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ کا بیٹا ہے تو گویا اُس نے یہ گمان کیا کہ اللہ غنی اور بے نیاز نہیں (بلکہ وہ دوسروں کا محتاج ہے ۔ نعوذباللہ)


اور یہ محتاجی اللہ تعالی پر غالب آجائے گی کہ اللہ تعالی کمزور اور ناتواں ہے نہ کہ قوت اور غلبے والا۔


تو کیا جس کی عبادت کی جائے وہ کمزور اور ناتواں ہو سکتا ہے؟

 

2- بیٹے کی موجودگی سے دوسری بات یہ  لازم آتی ہے کہ باپ کے لیے پوری کی پوری ملکیت نہیں ہو سکتی۔

 


 

کیونکہ اس کا بیٹا اسکی ملکیت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور  لے گا ۔ اِس طرح یہ بات واضح ہوگئ کہ باپ اپنی ملکیت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور کھو بیٹھے گا۔


 


 

لہذا قرآن کریم میں درج ذیل عقلی حجت پیش کی گئی ہے۔
 

ارشاد باری تعالی ہے( لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ .....وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ....) [سورۃ المائدۃ: 17] ترجمہ:بلاشبہ یقینًا وہ لوگ کافر ہو گئے جنھوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ہی تو ہے جو مریم کا بیٹا ہے ... اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان کے درمیان ہے...۔

 

تو معلوم ہوا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ کا بیٹا ہے تو گویا  اُس نے اِس بات کا گمان کیا کہ اللہ تعالی کی ملکیت ناقص اور ادھوری ہے تو وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اُسکا نہیں (نعوذ باللہ)۔


 

3- تیسری بات جو لازم آتی ہے وہ یہ ہے کہ باپ اپنے تمام کے تمام یا بعض اعمال انجام دینے سے عاجز آجائے گا جس کے لیے اُسکا بیٹا اُسکی مدد کرے گا ، اور باپ اپنے بیٹے پر ہی اعتماد کرتے ہوئے اپنے کام انجام دے سکے گا۔ اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باپ اپنے کاموں پر قادر اور کارساز نہیں۔

 

 

 تو معلوم ہوا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ صاحب اولاد ہے تو گویا اُس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی کسی بھی چیز پر قادر  نہیں اور نہ ہی وہ بہترین کارساز ہے (نعوذ باللہ)۔


 

اور یہ کہ عاجزی وکمزوری اللہ تعالی پر  عنقریب  غالب آ جائے گی اور وہ کمزور اور ناتواں ہو جائے گا۔

 

 

تو كيا اس كائنات كا  خُدا  كمزور و ناتواں ہو سکتا ہے؟

 

4- بیٹے کے وجود سے چوتھی بات یہ  لازم آتی ہے کہ عنقریب  باپ بوڑھا ہو جائے گا اور کمزور بھی...

اور اگر ایسا نہیں  تو کیوں اُس نے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے؟


اور پھر(ایسی صورت میں)  باپ اپنے بیٹے کو قوت وتوانائی میں اپنا جانشین بنائے گا۔


تو اِس بات میں اِس چیز کی صراحت ہےکہ باپ اپنی قوت وتوانائی کی صفت کھو بیٹھےگا۔


 

لہذا جس نے یہ خیال ہو کہ اللہ تعالی كابیٹا ہے تو گویا اس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی قوی (قوت والا) نہیں ہے ۔


اور یہ کہ کمزوری وناتوائی اللہ تعالی پر غالب آ جائے کہ تو وہ کمزور وناتواں ہو جائے گا اور قوت وغلبے والا نہیں رہےگا۔

 

تو جس کو ہم کائنات کا معبود برحق مانتے ہیں تو وہ کمزور وناتواں ہو سکتا ہے؟

 

5- پانچویں بات جو لازم آتی ہے وہ یہ کہ باپ عنقریب موت کو پا لے گا اور اُس کا بیٹا اُسکا جانشین اور وارث ہوگا۔

 

تو اِس طرح سے باپ حیات وزندگی كي صفت سے بھی محروم ہو جائے  گا۔

 

 

تو جو کوئی گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹا بنایا گویا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ "حي" (زندگی والا) نہیں ہے۔

اور موت اللہ تعالی پر غالب آ جائی گی جس سے وہ کمزور وناتواں ٹھہرے گا نہ کہ قوت وغلبے والا۔

تو کیا جس کے بارے میں ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ وہ ساری کائنات کا پالنہار ہے ، وہ موت اور اُس جیسی چیزوں کے آگے کمزور پڑ سکتا ہے؟ (جبکہ یہ تمام کائنات   اوراس میں موجود ہر شے بلکہ زندگی اور موت سب کا خالق اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے) ۔


 

6- اگر بالفرض ہم یہ کہیں کہ اللہ تعالی کا بیٹا ہے۔ پھر ہمارے پاس ایک شخص آ کر کہے کہ اگر تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ کا بیٹا ہے... تو میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالی کے آباواجداد، بیوی، بچیاں، پوتے نواسے ،چچے اور ماموں بھی ہیں۔ تو ہمارے پاس اِس بات کے جواب میں سوائے خاموش رہنے اور لا جواب ہو جانے  کےہرگز کچھ نہیں ہوگا۔

 

 

لہذا (اس سلسلے میں)قرآن کریم درج ذیل عقلی حجت لايا ہے۔

 

ارشاد باری تعالی ہے: [سورة الأنعام: ]

 

ترجمہ : اور اس کے لیے بیٹی اور بیٹیاں کچھ جانے بغیر تراش لِیں، وہ پاک ہے اور بلند ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کا موجِد ہے، اس کی اولاد کیسے ہوگی جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

 

اِن مُسَلَّمہ حقیقتوں کے بعد ہم جس آخری نتیجے پر پہنچتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ہم نے اللہ تعالی کے بارے میں یہ کہا کہ اُسکا بیٹا ہے تو گویا ہم نے رب ذوالجلال کو ناقص مخلوق سے تشبیہ دی اور اس کائنات کے بنانے والے کو اُن تمام کامل صفات سے عاری کر دیا جو اُس کی شان کو  لائق ہیں۔

 

جبکہ جو یہ کہے کہ اللہ تعالی کا کوئی بیٹا نہیں ، تو اُس نے یقینی طور پر یہ جان لیا کہ اللہ ہی خالق ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ خالق مخلوق کی طرح ہو کیونکہ مخلوق ناقص کمزور اور ناتواں ہیں۔

جبکہ معبود برحق وہی ہو سکتا ہے جو غالب،  بے نیاز ، مختارِکُل ، طاقتور ، قدرت والا ، تقدس والا ، حکمت والا اور الحي القیوم (ہمیشہ زندہ اور قائم رکھنے والا ) ہو۔

 

اس موضوع کو پڑھنے والے! اور اپنے نفس کو حقیقت کی تلاش میں تھکانے والے! یہ موضوع خاص آپ ہی کے لیے ہے۔ اپنی عقل کو كسی اور کے ہاتھ میں نہ دیں بلکہ اپنی عقل سے سوچیں اور اِس موضوع کو بحث ومباحثہ سے دور رہ کر پڑھیئے۔

 

بے شک مسلمان عیسی علیہ السلام کی تعظیم کرتے ہیں اور اُن سے شدید محبت بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالی کے نبیوں میں سے ایک نبی ہیں۔ اور تمام نبیوں پر ایمان لانا دينِ اسلام میں ، ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔

 

 اور دینِ اسلام کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرے یا اُن سے بُغض رکھے۔ بلکہ اگر کوئی عیسی علیہ السلام کے پیغمبر ہونے کا انکاری ہے تو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکاری ہے۔ لہذا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

 

اور اس سب کے ساتھ ساتھ مسلمان عیسی علیہ السلام کو اُنکے بشری مقام سے آگے بھی  نہیں بڑھاتے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے بندے اور اُسکے رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کی تخلیق کو اُن کی عظمت پر دلالت کرنے والی نشانی بنایا۔

 

تو آپ ذرا اپنے نفس کے ساتھ ٹھہریئے  ! ایسا ٹھہراؤ جو آپ کے نفس کے وجود کو جھنجوڑے اور آپکی عقل پر عظیم حقائق کے طوفان اور آگے آنے والے سوالوں سے آپکی عقل پر زور دے:

 

ہمارا کیا نقصان ہوسکتا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ مسیح عیسی علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں؟

اُنکو اللہ کا رسول کہہ کر کیا ہم نے  اُنکی حد درجہ تعظیم نہیں کی ؟ جو کہ اُنکی شان کے لائق ہے؟

 

 

کیوں ہم اپنے آپ کو مغالطہ میں ڈالیں اور یہ کہیں کہ عیسی علیہ السلام معبود ہیں جبکہ اُنکی بشریت ، نبوت اور رسالت پر واضح دلائل موجود ہیں؟ کیا عیسی علیہ السلام کو معبود کہنے کی ہماری یہ جرأت اللہ تعالی کا ہم پر سخت ناراض ہونے کا سبب نہیں؟ کیونکہ ہم نے (اس بات سے) اللہ تعالی کی شان میں سخت گستاخی کی۔

 

 

کیا ہمارے رب کی یہ امتیازی خُوبی نہیں ہے کہ وہ کائنات کا پیدا کرنے والا ہے؟ تو ہم اِس امتیاز کی تکمیل اُسکی وحدانیت بیان کرکے اور اکیلےاُسی کی بندگی کرکے نہ کریں؟

 

 

بلاشبہ اللہ کی نعمتیں آپ پر صبح وشام نازل ہوتی ہیں ، تو کیا آپ ان نعمتوں کا بدلہ زیادتی کرکے،  جھٹلاكے اور گستاخی کركے دیں گے؟

 

 

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ مجرم جنھوں نے جرأت کی اور گمان کیا کہ اللہ تعالی کا بیٹا ہے وہ اس واضح حق کو چھپا سکتے ہیں جو صبح روشن کی طرح ہے اور یہ کہ وہ سورج کو اپنی پُھونکنیوں سے بُجھا دینگے؟

 

اختتامًا...

ہمیں چاہئیے کہ ہم اس پیغام پر غور کریں جسے کائنات کے معبود حقیقی نے اہلِ زمین کے لیے نازل فرمایا:

 

ارشاد باری تعالی (( وقالوا اتخذالرحمن ولدا * لقد جئتم شيئا إدا * تكاد السماوات يتفطرن منه وتنشق الأرض وتخر الجبال هدا * أن دعوا للرحمن ولدا * وما ينبغي للرحمن أن يتخذ ولدا * إن كل من في السماوات والأرض إلا آتي الرحمن عبدا * لقد أحصاهم وعدهم عدا * وكلهم آتيه يوم القيامة فردا )).سورة مريم 88-95)


ترجمہ :اور انھوں نے کہا: رحما ن نے کوئی اولاد بنالی ہے۔ بلاشبہ یقینًا تم ایک بھاری بات کوآئے ہو۔ آسمان قریب ہے کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔ کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعوی کیا۔ حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ بلاشبہ یقینًا اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔