صحابۂ کرام ان کی سچائی اور عدالت


صحابۂ کرام ان کی سچائی اور عدالت

 

خلق الله تعالى  الإنس والجن لعبادته ، واختار سبحانه من بين الإنس أناسا خصهم برسالاته؛  فأنزل عليهم الوحي، وأمرهم بتبليغ شرعه للناس ، { رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزاً حَكِيماً }النساء165.

 

اللہ تعالی نے انسانوں اور جناتوں کی تخلیق اپنی عبادت کے لۓ کی اور ان انسانوں میں سے کچھ ایسے لوگوں کو اپنی رسالت وپیغمبری کے لۓ چن لیا جن پر (اللہ تعالی نے )وحی کا نزول فرمایا ،نیزانہیں ان چیزوں کی تبلیغ کا حکم دیا جسے لوگوں کے لۓ شریعت قرار دیا۔ 

ارشاد باری تعالی :ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پر نہ رہ جاۓ ،اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا با حکمت ہے ۔(سورۃ النساء آیت نمبر 165)

 

واختار من بين هؤلاء الأنبياء والرسل عليهم الصلاة والسلام محمد بن عبد الله خاتماً لهم ، فاصطفاه وخصه بأعظم الكتب  ( القرآن ) ، وبأكمل الشرائع وأيسرها ( الإسلام ) ، وحكم سبحانه بخسارة من جاء بغير الإسلام ديناً ، { وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ }آل عمران85.

 

ان انبیاء ورسل میں سے جسے خاتم النبیین کا شرف حاصل ہوااور جنہیں اللہ تعالی نے اس کے لۓ اختیار فرمایا وہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ انہیں سب سے عظیم کتاب (قرآن ) سے سرفرازفرماتے ہوۓ  سب سے کامل و آسان دین (اسلام) )سے نوازا اور یہ حکم فرمادیا کہ جو بھی دین اسلام کےعلاوہ کسی اور دین کا حامل ہوگا وہ خسارے اور گھاٹے میں ہوگا،ارشاد باری تعالی (جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے اسکا دین قبول نہ کیا جائیگا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا ۔( سورۃ آل عمران آیت نمبر 85)

 

وأكد هذا الحكم نبينا محمد – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم – بقوله : (( والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ، ولا نصراني ، ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار )) رواه مسلم ، حديث رقم 153 .

 

اس حکم کی تاکید اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے بھی کردی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں (قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے اگرچہ وہ یہودی یا نصرانی ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لاۓ جسے لیکر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اسکی موت ہوجاۓ تو وہ جہنمی ہوگا۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 153)

ولأجل هذه المهمة الجليلة والعظيمة قدر الله تعالى أموراً تدل على حكمته سبحانه منها :

اس عظیم الشان امر کے لۓ اللہ تعالی نے چند ایسی چیزیں مقدر فرمائیں جو اللہ تعالی کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں (جو مندرجہ ذیل ہیں۔

 

1-      تكفل سبحانه بحفظ القرآن الكريم من التبديل والتغيير ، والزيادة والنقصان ،  { إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ }الحجر9

1

- اللہ تعالی نے قرآن کریم کی (کسی بھی قسم کی) تغییر وتبدیلی،زیادتی وکمی سے حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے سر لی ہے ،ارشاد باری تعالی ہے (ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ۔ سورۃ الحجر آیت نمبر 9)

 

2-  اختار من الناس من هو جدير بصحبة رسوله - صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم -  ليحملوا أعباء هذه الرسالة الخاتمة إلى جميع البشر ؛ فهو دين لكل الناس عربهم وعجمهم ، أسودهم وأبيضهم ،  { وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ }سبأ28.

قال ابن مسعود رضي الله عنه  : " إن الله نظر في قلوب العباد فوجد قلب محمدٍ – صلى الله عليه وسلم - خير قلوب العباد فاصطفاه وبعثه برسالته ، ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد فجعلهم وزراء نبيه يقاتلون عن دينه ([1]) ".

 

2-لوگوں میں سے ان لوگوں کو اختیار فرمایا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے مناسب تھے تاکہ وہ اس آخری رسالت کے بوجھ کو تمام لوگوں کے لۓ اٹھا سکیں کیونکہ وہ(اسلام ) ایسا دین ہے جو تمام لوگوں کے لۓ ہے چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی ہوں ،گورے ہوں یا کالے ہوں ،ارشاد باری تعالی ہے (ہم نے آپکو تمام لوگوں کے لۓ خوشخبریاں سنانے والا اور دھمکا دینے والا بناکر بھیجا ہے ،ہاں یہ صحیح ہے کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے ،سورۃ سبا آیت نمبر 28)

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا تو بندوں میں سب سے بہتر دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایاجس کی وجہ سے انہیں چن لیا اوررسالت وپیغمبری کے ساتھ مبعوث فرمایا،پھرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد لوگوں کے دلوں کو دیکھا توان میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں کو سب سے بہتر پایا جنہیں اپنے نبی کے معاون ومددگار ہونے کا شرف بخشا جو اس کے دین کے لۓ قتال کرتے ہیں ۔( الإستيعاب 1/6  - حلية الأولياء 1/375  )

 

وهاك أخي القارئ هذا الوصف العجيب لأصحاب النبي – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم – من زوج فاطمة الزهراء – رضي الله عنها - ،  سيدا شباب الجنة – رضي الله عنهما – علي بن أبي طالب – رضي الله عنه – حيث يروي عنه أبو أراكة  قال : صليت مع علي رضي الله عنه صلاة الفجر ، فلما انفتل عن يمينه مكث كأن عليه كآبة ، حتى إذا كانت الشمس على حائط المسجد قيدَ رُمح صلى ركعتين ثم قلّب يده ، فقال : والله لقد رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم  فما أرى اليوم شيئاً يشبههم !! لقد كانوا يصبحون صُفراً شعثاً غبراً بين أعينهم كأمثال رُكب المعزى ، قد باتوا سُجداً وقياماً ، يتلون كتاب الله يتراوحون بين جباههم وأقدامهم فإذا أصبحوا فذكروا الله مادوا كما يميد الشجر في يوم الريح وهملت أعينهم حتى تنبل ثيابهم ، والله لكأن القوم باتوا غافلين ([2]).

لقد بدأت حياة خاتم الأنبياء والمرسلين – عليه وعليهم أفضل الصلاة وأزكى التسليم – في مكة بدعوة الناس للإسلام فآمن به قلة من أهل مكة ، صدقوه وآمنوا برسالته ، وأثبتوا صدق إيمانهم في صفحات أيام تلك المرحلة؛ فكان لا يمر يوم إلا ويزداد فيه التضييق عليهم ، ويبتكر المشركون لوناً جديدا في التعذيب والتنكيل بهم ، ويغيبون عن حياة الناس بالتشويه الماكر الذي يتعرضون له مع نبيهم – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم – ومع كل هذا صبروا واحتسبوا بل قاموا بدور دعوي فريد أسفر عن إسلام أعداد جديدة من أهل مكة ، فظهر صدق إيمان المهاجرين ، الذين توجوا ثباتهم بالتضحية بأموالهم وبيوتهم ، وتركوا الأهل والأقارب والعشيرة ، وهاجروا إلى الحبشة ، ثم بعدها إلى المدينة ! فما الذي دفعهم لكل هذا ؟!

أهو خوف قوة وبطش نبي الإسلام، الذي كان لا يملك لنفسه ولا لهم حولاً ولا قوة ؟!

أم رجاء ما عنده من أموال وخيرات دنيوية، ومناصب وأوسمة يعد بقسمتها على أتباعه ؟

 

چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء والرسل تھے آپ کی حیات مبارکہ (نبوت کے بعد)مکہ میں لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوۓ شروع ہوتی ہے شروع میں چند ہی لوگ آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کے رسالت کی تصدیق کرتے ہیں ،ہوتا یہ ہےکہ کوئ دن ایسا نہیں گزرتا ہے کہ ان پر تنگی ، سختی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اورصرف اسی پر بس نہیں بلکہ مشرکین آۓ دن عذاب وپریشانیوں کا نیا نیا طریقہ اختیار کرتے ہوۓ بد ترین شازشیں رچتے ہیں جس سے دوچار صحابہ کرام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود انھوں (صحابہ کرام)نے صبر واحتساب سے کام لیتے ہوۓ دعوت کا ایسا انوکھا انداز پیش کیا کہ اہل مکہ کے دیگر بہت سے لوگوں کے حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کی شکل میں نمودار ہوا

چنانچہ مہاجرین صحابہ کے ایمان کی سچائی بھی سامنے آئی جنھوں نے اپنے مال وجائیداد،گھروں ،اہل وعیال ،اعزاءواقارب کو چھوڑ کر ان کی قربانیاں پیش کرکے اس دین پر ثابت رہے اور ہجرت حبشہ کی پھراسکے بعد ہجرت مدینہ کی !

(سوچنے کا مقام ہے ) کہ اسپر انہیں کس چیز نے آمادہ کیا اور ابھارا؟

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت وقوت کا خوف وڈر تھا جو نہ اپنے لۓ اور نہ ہی ان کے لۓ کسی قسم کی کوئی طاقت رکھتے تھے ؟

یا ان کے  (صلی اللہ علیہ وسلم )پاس دنیاوی مال وجائیداد،مناصب ومراتب تھے جسکی امید کرتے ہوۓ کہ وہ اپنے متبعین پر اسے تقسیم فرمائیں گے ؟

 

الجواب هو : لا هذا ولا ذاك ؛ بل كان صدق الإيمان سر ثباتهم وقوتهم .

 

جواب یہ ہیکہ ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ ان (صحابۂ کرام ) کے ثبات قدمی اور ان کی قوت کا راز ان کے ایمان کی سچائی میں تھا ۔

هناك قوة تهاب فيظهر ناسٌ إسلامهم خوفاً منها ، ولم يكن هناك مقابل مادي ومتاع دنيوي يغري بإظهار الإسلام ؛ لذلك لم يكن في أصحاب محمد منافق في الفترة المكية من دعوة الإسلام .

 

بلاشبہ نفاق (ایمان کو ظاہر کرنا اور کفر کو چھپاۓ رکھنا )مکی دور میں اسکے ظاہر ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی کیونکہ وہاں کوئی ایسی قوت نہ تھی کہ جس سے ڈر اور خوف کھایا جاۓ اور اسوجہ سے لوگ اسلام کو ظاہر کریں ،نہ ہی اسکے مقابل میں کوئی مادی اور دنیوی چیز تھی جسے اسلام کے ظاہر کرنے کی وجہ سے اغراء کے طور پر پیش کیا جاتا ،لہذامکی دور میں اسلام کی دعوت دیتے ہوۓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں کوئی منافق نہ تھا ۔

 

والسؤال المهم الآن :

هل المهاجرون الذين هذه أخبارهم عدول ؟!

وماذا نصنع بالجزء من الدين الذي حملوه إلينا ؟ هل نرده ونرفضه حتى نثبت عدالتهم ؟!

 

اب ایک اہم سوال یہ ہیکہ کیا یہ مہاجرین صحابہ جن کے بارے میں یہ خبر ہے کہ وہ عدول ہیں

دین کا وہ حصہ جسے انھوں نے ہم تک پہنچایا ہے ہمارا کیا موقف ہوگا ؟ ‎آیا ہم ان کا رد اور انکار کریں گے حتی کہ انکی عدالت کو ثابت کر دکھائیں ؟

 

إن الجواب لا يرتاب فيه مؤمن بأن القرآن كلام الله تعالى والذي جاء فيه الثناء عليهم بسبقهم للإسلام ، وتفضيلهم على سائر الأصحاب ::{ وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ }([3])  . وقال تعالى مادحاً لهم : { إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أُوْلَـئِكَ يَرْجُون رَحْمَتَ اللّهِ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ }([4]).

 

جواب یہ ہیکہ کوئی بھی مومن اسمیں شک نہیں کرتا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جسمیں انکے اسلام میں سبقت کرنے کی وجہ سے ان کی تعریف کی گئی ہے اور دیگر تمام صحابہ کرام پر ان کو فضیلت اور برتری حاصل ہے ۔ ارشاد باری تعالی (اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہو اور وہ سب اس سے راضی ہوۓ اور اللہ نے ان کے لۓ ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کا میابی ہے ) سورۃ التوبہ آیت نمبر100

ان صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح وتعریف کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا (بیشک ایمان لانے والے ،ہجرت کرنے والے ،اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں ،اللہ تعالی بہہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔) سورۃ البقرۃ آیت نمبر218

 

وأيضاً فالمؤمنون بمحمدٍ نبيا يقرون بعدالتهم ، فقد زكاهم بقوله : : (( إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا)) ([5]

 

اور وہ لوگ بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیعدالت کا اقرار واعتراف کرتے ہیں چنانچہ ان کا تزکیہ کرتے ہوۓ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (فقراء مہاجرین بروزقیامت جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے ۔(صحیح مسلم کتاب الزھد والرقائق حدیث نمبر 2979)

 

فالشهادة بالجنة لا تكون إلا لعدول صادقي الإيمان !

 

(اور ظاہر سی بات ہے ) جنت کی شہادت صرف اورصرف ایسے انسان کے لۓ ہوسکتی ہے جو عدالت  اورصدق ایمان سے متصف ہو ۔

فالذي لا يقبل تزكية رب العالمين للمهاجرين ، ولا يعتقد عدالتهم ؟ فبمن سيقبل ؟!

وبماذا سيجيب المؤمنين برده مثل هذه الآيات الكريمة ؟!

 

پس جو شخص اللہ کے تزکیہ کو جسے اسنے مہاجرین کے لۓ کیا ہے اگر اسے نہ قبول کرے اور نہ ہی ان کے عدالت کا معتقد ہو تو پھر وہ کسکو قبول کے گا ۔نیز ایمان والے ان آیات کریمہ کے رد کرنے والے اور اسے قبول نہ کرنے والے کو کیا جواب دیں گے ۔

 

وبعد استقرار نبينا – صلى الله عليه وآله وسلم – في المدينة  ومعه أصحابه الكرام ، نزلوا ضيوفاً عند إخوانهم الأنصار الذين أكرموهم أحسن الإكرام .

وهؤلاء الأنصار الذين استقبلوا إخوانهم المهاجرين كتبوا تاريخهم بمداد من ذهب !

 

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ سٹ ہوجانے کے بعد (مہاجرین صحابہ )اپنے انصار بھائیوں کے پاس مہمان کی حیثیت سے اترے جن کی ان انصار نے اچھے سے اچھے انداز میں تکریم کی اور یہ وہ انصار تھے جنہوں نے اپنے مہاجرین بھائیوں کا خیر مقدم کیا جسے تاریخ میں سونے کی سیاحی سے قلم بند کیا گیا ۔

 

فما هي الحوافز والوعود الدنيوية التي يحملها لهم رجل مطارد من قومه مهدد بالقتل هو ومن معه ؟

سوچنے کا مقام ہے کہ وہ دنیاوی کون سے وعدے یا آمادہ کرنے والی کون سی چیز تھی جس نے انہیں (انصار) ایسے شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )  اور آپ کے ساتھ مہاچرین کی نصرت وتائید پر آمادہ کردیا جو اپنے قوم سے بھگاۓ گۓ تھے اور قتل کی دھمکی بھی دی گئی تھی ۔

 

بل إن مبايعتهم له تمت في سرية تامة وخوف شديد من العواقب ، وهاك صورتين من بيعة العقبة

بلکہ ان انصار صحابہ کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بہت ہی خفیہ طور پر اور  اسکے انجام سے بہت ہی خوف اور ڈر کی شکل میں ہوئی تھی،تو آئیۓ ہم بیعت عقبہ کی دو صورتوں کو پیش کرتے ہیں ۔

 

الصورة الأولى :

پہلی صورت :

تظهر ثقة العباس بن عبدالمطلب عم النبي – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم – بصدق الأنصار حيث حضر البيعة وذكرهم بمكانة ابن أخيه وحقه عليهم فقال للأنصار : يا معشر الخزرج – وكانت العرب يسمون هذا الحي من الأنصار : الخزرج ، خزرجها وأوسها – إن محمداً منا حيث قد علمتم ، وقد منعناه من قومنا ممن رأيهم مثل رأينا فيه ، فهو في عز من قومه ، ومنعة من بلده ، وأنه قد أبى إلا الانحياز إليكم واللحوق بكم ، فإن كنتم ترون أنكم وافون له بما دعوتموه إليه ، ومانعوه ممن خالفه فأنتم وما تحملتم من ذلك فإنه في عز ومنعة من قومه وبلده . قال : فقلنا له : قد سمعنا ما قلت فتكلم يا رسول الله ، فخذ لنفسك ولربك ما أحببت . فتكلم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، فتلا القرآن ودعا إلى الله ورغب في الإسلام ثم قال : (( أبايعكم على أن تمنعوني مما تمنعون منه نساءكم وأبناءكم )) ([6]).

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں جن کا اعتماد انصار صحابہ کے سچائی سے ظاہر ہوتاہے وہ یہ کہ بیعت کے وقت حاضر ہوتے ہیں اور انہیں اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کےمقام ومرتبہ نیز انکا حق ان پر کیا ہے یاد دلاتے ہیں اور انصار سے کہتے ہیں اے خزرج کے لوگو :عام اہل عرب انصار کے دونوں ہی قبیلے یعنی خزرج اور اوس کو خزرج ہی کہتے تھے ،ہمارے اندر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حیثیت ہے وہ تمہیں معلوم ہے ،ہماری قوم کے جو لوگ دینی نقطۂ نظر سے ہمارے ہی جیسی راۓ رکھتے ہیں ہم نے محمد کو ان سے محفوظ رکھا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں قوت وعزت اور طاقت وحفاظت میں ہیں مگر اب وہ تمہارے یہاں تمہارے ساتھ جانے اور تمہارے ساتھ لاحق ہونے پر مصر ہیں لہذا اگر تمہارا یہ خیا ل ہے کہ تم انہیں جس چیز کی طرف بلا رہے ہو اسے نبھا لوگے اور انہیں ان کے مخالفین سے بچا لوگے تو ٹھیک ہے تم نے جو ذمہ داری اٹھائی ہے اسے تم جانوکیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں بہر حال عزت وحفاظت سے ہیں،(حضرت کعب رضی اللہ عنہ )کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے جو کہا آپ کی بات ہم نے سن لی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ گفتگو فرمائیۓ اور اپنے رب کے لۓ جو عہد وپیمان پسند فرمائیں لیجۓ ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو شروع کرتے ہوۓ قرآن کریم کی تلاوت کی ،اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوۓ اسلام کی طرف رغبت دلائی پھر ہم کلام ہوتے ہوۓ آپ نے کہا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ تم میر ی حفاظت ایسے ہی کروگے جیسے کہ تم اپنے عورتوں اور بچوں کی کرتے ہو ۔(سیرۃ ابن ہشام 2/53  ) 

 

فهل يمكن للعباس أن يسلم ابن أخيه لمن لا يثق بصدق إيمانهم ، وبمن يشك في عدالتهم ؟!

تو کیا یہ چیزممکن تھی کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اپنے بھتیجے کو ایسے لوگوں کے حوالے کردیں کہ جن کے صدق ایمان پر ان کا اعتماد نہ ہو اور یہ کہ ان کے عادل ہونے میں انہیں شک ہو ۔

 

أما الصورة الثانية :

فهي تقرر ضخامة الأمر الذي سيقدم عليه الأنصار ونتائج مبايعتهم للنبي – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم - قال أسعد بن زرارة : وهو أصغر السبعين : رويداً يا أهل يثرب إنا لم نضرب إليه أكباد الإبل ، إلاّ ونحن نعلم أنه رسول الله ، وأن إخراجه اليوم مفارقة العرب كافة ، وقتل خياركم ، وأن تعضكم السيوف ، فإما أنتم تصبرون على ذلك وأجركم على الله ،وإما أن أنتم تخافون من أنفسكم جبينة فبينوا ذلك فهو أعذر لكم عند الله . فقالوا : يا أسعد أمط عنا يدك ، فوالله لا ندع هذه البيعة ، ولا نستقيلها أبدا ))([7]) .

 

دوسری صورت :

جس سے اس امر کی ضخامت کا پتہ چلتا ہے جسکی طرف انصار اقدام کرنے والے ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے ،حضرت اسعد بن زرارہ جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر کے تھے بول اٹھے اے اہل یثرب ذوا ٹہر جاؤہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کرکے )اس یقین کے ساتھ حاضر ہوۓ ہیں کہ اپ اللہ کے رسول ہیں ،آج آپ کو یہاں سے لیجانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی ،تمہارے سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار ،لہذا اگر یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہو تب تو انہیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اوراگر تمہیں بزدلی کی بنیاد پر اپنے نفس پر ڈر ہے تو  ابھی سے بیان کردو اللہ کے نزدیک عذر قابل قبول ہوگا ،(اتنا سننا تھا کہ انھوں نے کہا )اے اسعد تم مجھ سے اپنے ہاتھ کو دور کرو ،اللہ کی قسم ہم اس بیعت کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے ہم کبھی جدا ہو سکتے ہیں ۔(مسند احمد 4469)

إن مفارقتهم للقبائل وخاصة اليهودية التي كانت تسكن معهم المدينة تعرضهم لخطر الإبادة والاستئصال !

بلاشبہ انکا تمام قبیلوں کو خیرآباد کہنا خاص طور سے یہودیوں کوجو ان کے ساتھ رہتے تھے اپنے آپکو تباہی وبربادی کے سپرد کرنا تھا ۔

لذلك لم تكن مبررات ظهور النفاق موجودة في المراحل الأولى من الحياة المدنية ، يشهد لذلك  هذه الحادثة التي تصور لك ظروف المسلمين في تلك المرحلة ، قيل للنبي  صلى الله عليه وسلم  :لو أتيت

 

عبد الله بن أبي ، فانطلق إليه النبي  صلى الله عليه وسلم  ، وركب حمارا ، فانطلق المسلمون يمشون معه ، وهي أرض سبخة ، فلما أتاه النبي  صلى الله عليه وسلم  قال : إليك عني ، والله لقد آذاني نتن حمارك ، فقال رجل من الأنصار- قيل أنه عبد الله بن رواحة ([8]) رضي الله عنه -  : والله لحمار رسول الله  صلى الله عليه وسلم  ، أطيب ريحا منك  . فغضب لعبد الله رجل من قومه فشتمه ، فغضب لكل واحد منهما أصحابه ، فكان بينهما ضرب بالجريد والأيدي والنعال ([9]).

 

اسلۓ مدنی زندگی کے پہلے دور میں نفاق کے ظاہر ہونے کا کوئی امکان نہ تھا چنانچہ اسپر شاہد وہ واقعہ ہے جو اس وقت مسلمانوں کے جو حالات تھے جسکی تصویر کشی کرتا ہے ،چنانچہ نبی كريم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کا ش آپ عبد اللہ بن ابی بن سلول کے پاس جاتے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوارہوکر اسکے پاس گۓ اور آپ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام بھی چل پڑے جو زمین نشیبی اور تر تھی تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسکے پاس پہنچے اسنے(عبداللہ بن ابی بن سلول )نے کہا آپ مجھ سے دور رہیۓ ،اللہ کی قسم تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے اذیت وتکلیف پہنچی ہے ،انصار میں سے ایک صحابی نے کہا (کہا جاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن رواحہ ہیں )اللہ کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کی بو تمہارے بو سے اچھی ہے اتنا سننا تھا کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کی جماعت میں سے  ایک شخص ناراض ہوکر انہیں گالی دیدیا،جسکی وجہ سے ہر ایک کے ساتھی ناراض ہوگۓ اور حالت یہاں تک آپہنچی کہ ان کے مابین ٹہنی،ہاتھ اور جوتے سے مار پیٹ کی نوبت آگئی۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 2545)

 

ولما أذن الله لنبيه بالتمكين في الأرض من خلال :

جب اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوزمین میں (مندرجہ ذیل امور کے ذریعہ )طاقت عطا فرمائی۔

1- دخول أشراف الأنصار في الإسلام وجمهورهم .  

2-      ظهور عز الإسلام بعد انتصار النبي صلى الله عليه وسلم في بدر .

1-انصار کے معززومکرم اور عام لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ۔

3- معرکۂ بدر میں نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کے غلبہ پانے پر عزت اسلام کا ظاہر ہونا (کھل کر سامنے آنا)

احتاج بعض أهل المدينة إظهار الإسلام نفاقاً لمصلحة دنياهم ، فقال ابن أبي سلول ومن معه من المشركين وعبدة الأوثان : هذا أمر قد توجه .فبايعوا الرسول  صلى الله عليه وسلم على الإسلام فأسلموا ([10]). فكانت بداية النفاق في المدينة ، ثم ازداد عدد الصحابة بعد فتح مكة ودخل الناس في دين الله أفواجاً حتى وصلوا عشرات الآلاف في حجة الوداع .

 

(ایسی صورت میں )بعض اہل مدینہ نے نفاق کے طور پر اپنے دنیاوی  مصلحت ومفاد کو مقدم رکھتے ہوۓ اسلام کو ظاہر کیا ،چنانچہ عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اسکے ہمنوا دیگر مشرکین اور بتوں کی عبادت کرنے والے لوگوں نے کہا یہ معاملہ تو آگے بڑھ گیا ،لہذا انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی جن کی تعداد کل دس تھی اور اسطرح سے  مدینہ میں نفاق کی ابتداء ہوئی ۔

فتح مکہ کے بعد صحابۂکرام کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور لوگ دین اسلام میں گروہ درگروہ داخل ہونے لگے حتی کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر ان کی تعداد لاکھ تک پہنچ گئی ۔

وبناءً على ما سبق ذكره يتضح الآتي :

1-      أن الصحبة فيها خصوص وعموم، وعمومها يندرج فيه كل من لقي النبي - صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم -  مؤمنًا به، ولهذا يقال‏ عن بعضهم :‏ صحبته سنة، وشهرًا، وساعة، ونحو ذلك‏ ، ويتفاضل الصحابة بينهم فإن عبد الرحمن بن عوف هو وأمثاله من السابقين الأولين من الذين أنفقوا قبل الفتح ـ فتح الحديبية ـ أعلى مرتبة من خالد بن الوليد وغيره ممن أسلم بعد الحديبية وأنفقوا وقاتلوا ؛ فهم دون أولئك، قال تعالي‏:‏ ‏{‏ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ‏}‏ ‏[‏الحديد‏:‏ 10‏] ؛ فالذين صحبوه قبل الفتح اختصوا من الصحبة بما استحقوا به التفضيل على من بعدهم، حتى قال لخالد‏:‏ ‏(‏لا تسبوا أصحابي‏)‏، فإنهم صحبوه قبل أن يصحبه خالد وأمثاله ‏، ومثال آخر أكثر توضيحاً لهذا التفاضل هو ما تميز به أبو بكر الصديق – رضي الله عنه - على جميع الصحابة رضي الله عنهم ، قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم  :( إنه ليس من الناس أحد أمن علي في نفسه وماله من أبي بكر بن أبي قحافة، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن خلة الإسلام أفضل، سدوا عني كل خوخة في هذا المسجد، غير خوخة أبي بكر) ([11]) ، وقال صلى الله عليه وسلم مبيناً فضل أبي بكر الصديق : ‏ ( إن الله بعثني إليكم فقلتم :كذبت، وقال أبو بكر : صدق. وواساني بنفسه وماله، فهل أنتم تاركوا لي صاحبي ؟! )‏ ([12]). فهنا خصه باسم الصحبة، كما خصه به القرآن في قوله تعالي‏:‏ ‏{‏ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا ‏}‏ ‏[‏التوبة‏:‏ 40‏]‏ ، وعمر بن الخطاب رضي الله عنه بين النبي – صلى الله عليه وسلم فضله بقوله : ‏( جعل اللّه الحقَّ على لسان عمر وقلبه ) ([13]) ، و قال له النبي صلى الله عليه وسلم‏:‏ ( والذي نفسي بيده! ما لقيك الشيطان قط سالكا فجا إلا سلك فجا غير فجك ) ([14])‏‏.‏ ولا استعمل عمر قط، بل ولا أبو بكر علي المسلمين‏:‏ منافقًا، ولا استعملا من أقاربهما ([15]).

 

گزشتہ جو چیزیں گزر چکیں ان کی مزید وضاحت کچھ اس طرح سے ہوتی ہے جو(مندرجہ ذیل ہیں )

1-صحابۂ کرام ان میں سے کچھ خاص ہیں اور کچھ عام ہیں،عام میں ہر وہ شخص داخل ہے جسنے اللہ کے رسول سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اسی لۓ ان میں سے بعض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اللہ کے رسول کی صحبت کا شرف ایک سال تک رہا،بعضکو ایک مہینے کا ،اور بعض کو ایک گھنٹے کا شرف حاصل رہا وغیرہ۔غرضیکہ وہ آپس میں فضل میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوۓ تھے ،چنانچہ عبد الرحمان بن عوف اور ان جیسے دیگر صحابۂ کرام جو پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے اور انہوں نے فتح حدیبیہ سے پہلے (اللہ کے راہ میں )خرچ کیا تھا یہ مقام ومرتبہ میں خالد بن ولید اور ان کے علاوہ دیگر ان صحابۂ کرام سے بڑھے ہوۓ ہیں جو حدیبیہ کے بعد اسلام لاۓ ،اللہ کےراستے میں قتال کۓ اور اپنے مال کو خرچ کیۓ اسلۓ یہ لوگ ان سے مقام ومرتبہ میں کمتر ہیں ۔ارشاد باری تعالی (تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور جہاد کیا ہے وہ دوسروں کے برابر نہیں بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں  جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کۓ ،ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالی کا ان سب سے ہے ۔)سورۃ حدید آیت نمبر 10

معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف فتح سے پہلے حاصل ہوا انہیں وہ مقام حاصل ہوا جو ان کے بعد والے لوگوں کو نہ حاصل ہوایہاں تک کہ اللہ کے رسول نے حضرت خالد سے اسوقت کہا جب وہ اسلام نہ لاۓ تھے (میرے ساتھیوں کو گالی نہ دو )کیونکہ انہیں اللہ کے رسول کی صحبت کا شرف حضرت اور ان جیسے دیگر لوگوں سے پہلے حاصل ہوا،اور ایک دوسری مثال جو صحابۂ کرام کے تفاضل کے متعلق ہے جو اس سے بھی واضح ہے وہ یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امتیازی حیثیت تمام صحابۂ کرام پر ۔ارشاد نبوی (لوگوں میں ابوبکر بن ابی قحافہ سے اپنے جان ومال کو مجھ پر نچھاور کرنے والا کوئی نہیں اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن اسلام کی دوستی افضل ہے اس مسجد (مسجد نبوی) میں جتنے بھی جھروکے میرے طرف ہوں سواۓ ابوبکر کے جھروکے کے سب کے سب کو بند کردو۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 455)نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوۓ فرمایا (مجھے اللہ  تعالی نے تمہاری طرف بھیجا تو تم نے کہا کہ تم جھوٹے ہو اور ابوبکر نےمیری تصدیق کی ،اپنے مال وجان سے میری مدد کی تو کیا تم میرے ساتھی کو میرے لۓ چھوڑ سکتے ہو ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 3461)

یہاں پر اللہ کے رسول نے ان (ابو بکر رضی اللہ عنہ )کی تصدیق صحبت سے کی جیسا کہ قرآن نے بھی انکی تخصیص صحبت سے کی ، ارشاد باری تعالی (دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔(سورۃ توبہ آیت نمبر 40)

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضل کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے عمر رضی اللہ عنہ کے زبان ودل پر حق کو جاری کیا تھا (ابوداؤد حدیث نمبر 297)نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے شیطان جس راستے سے عمر جاتے تھے وہ راستہ چھوڑکر دوسرا راستہ لے لیتا تھا ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 2396)

اور واضح رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور نہ ہی ابوبکررضی اللہ عنہ نے کسی منافق اور نہ اپنے کسی قرابت دار کو مسلمانوں پر نگراں بنایا (اور ان کے ذمہ مسلمانوں کے معاملات سپرد کۓ۔(فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ باب الخلافہ والملک)

ولقد أقر الصحابة بهذا التفاضل بينهم فقد روى الإمام أحمد في مسنده  في مسند علي – رضي الله عنه - أن وهب السوائي قال:خطبنا علي - رضي الله عنه - فقال: " من خير هذه الأمة بعد نبيها ؟ فقلت: أنت يا أمير المؤمنين . قال: لا ! خير هذه الأمة بعد نبيها : أبو بكر ، ثم عمر رضي الله عنه ، وما نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر رضي الله عنه "[مسند الإمام أحمد (1/104 رقم: 834)]، ومع هذا التفاضل بينهم فإنهم جميعاً عدول صادقين .

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے مابین اس تفاضل اور برتری کا اقرار بھی کیا ،امام احمد رحمہ اللہ مسند علی میں ذکر کرتے ہوۓ وھب السوائی کا وہ قول نقل  فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں خطبہ دیتے ہوۓ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کا سب سے بہتر انسان کون  ہے تومیں نے کہا آپ ہیں اے امیرالمومنین ،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم کے بعد اس امت کے سب سے بہتر انسان ابو بکر ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم دور نہیں ہوتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زبان پر سکینت طاری ہوتی تھی ۔(مسند احمد1/104

اس تفاضل وبرتری کے باوجود بھی تمام صحابۂ کرام عادل اور سچے تھے ۔

 

2-    أن المهاجرين لم يكن فيهم أحد متهم بالنفاق .

3-    أن الأنصار إلى مابعد غزوة بدر لم يكن أحد منهم متهماً بالنفاق .

4-  أن النفاق ظهر بعد غزوة بدر من بعض أهل المدينة، فلما أسلم أشرافهم وجمهورهم، احتاج الباقون أن يظهروا الإسلام نفاقًا؛ لعز الإسلام وظهوره في قومهم‏ .‏

 

4-      أن السابقين الأولين من المهاجرين والأنصار ومن أسلم بعد الفتح ظهرت عدالتهم واستقر صدقهم من خلال الآتي :

2-مہاجرین میں سے کوئی بھی شخص نفاق سے متہم نہ تھا۔

3-انصار میں سے بھی کوئی شخص غزوۂ بدر تک نفاق سے متہم نہ تھا۔

4-غزوہ بدر کے بعد بعض اہل مدینہ کے یہاں نفاق کا ظہور ہوا کیونکہ جب انکے بڑے بزرگ اور عام لوگ اسلام میں داخل ہوگۓ توایسی صورت میں ان میں سے باقی لوگوں کو اسلام کے ظاہر کرنے کے لۓ نفاق کا سہارا لینا پڑا کیونکہ اسلام کا غلبہ ہوچکا تھا اور اسکا ظہور بھی (پورے طور پر ہوچکا تھا۔

4-مہاجرین وانصار میں جو پہلے پہلے اسلام لا چکے تھے اور اسی طرح وہ لوگ جو  فتح کے بعد اسلام میں داخل ہوۓ ان کی عدالت ظاہر ہوئی اور ان کی صداقت بھی چند امور کی بنیاد پر برقرار رہی ۔

 

أ‌-   تزكية الله تعالى لهم ، :{  وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ } (([16]) .

1- اللہ تعالی نے ان کا تزکیہ فرمایا ،ارشاد باری تعالی (اور جومہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوۓ اور اللہ نے ان کے لۓ ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے ۔(سورۃ توبہ آیت نمبر 100)

 

ب‌-  تزكية النبي صلى الله عليه وآله وسلم لهم بقوله : (( لا تسبوا أصحابي ، فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ، ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفَه )) ([17]) ، وقوله صلى الله عليه وسلم : (( خير الناس قرني ، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم )) ([18]).

ب- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قول سے ان صحابۂ کرام کا تزکیہ کرنا ،ارشاد نبوی (میرے صحابہ کو گالیاں مت دو کیونکہ تم میں سے کوئی اگر احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ دے تو وہ صحابہ کرام کے ایک مد یا آدھا مد(مد یہ عرب میں ناپنے کا ایک پیمانہ ہے ) کے برابر بھی نہیں پہںچ سکتا ہے ۔(جسے انھوں نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا ہو )

ارشاد نبوی (لوگوں میں سب سے بہترلوگ میر ی صدی کے لوگ ہیں پھر جو ان سے قریب ہیں ،پھر جو ان سے قریب ہیں ۔(یعنی جو ان کے بعد ہیں )

ت‌-   أن السابقين للإسلام من المهاجرين والأنصار شهدوا لمن بعدهم بالصدق والعدالة.

ت – مہاجرین وانصار جنہوں نے اسلام میں سبقت کی ہے انکے لۓ ان کے بعد والوں نے بھی صدق وعدالت کی شہادت دی ہے ۔

ث‌-  أن مجتمع الأصحاب كان مجتمعاً يقظاً يشعر بكيد المنافقين ، ويرصد حركاتهم ، ويواجههم في كثير من المواقف عملا بقول الله تعالى:

ث –صحابۂ کرام کی جماعت بڑی بیدار مغز جماعت تھی جو منافقین کی چالوں کو جانتے تھے ،ان کی حرکتوں پر نظر رکھتے تھے ،جن کا مواجہہ انہوں نے اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوۓ مختلف حالات میں کیا

{ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ }المنافقون4 . (یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو )

يساعدهم في ذلك الوصف الدقيق للمنافقين في القرآن ؛ لدرجة أن المنافقين كانوا يحذرون من أوصاف القرآن لهم :

چنانچہ قرآن کریم میں منافقین کے جو بہت ہی دقیق انداز میں اوصاف بیان کۓ گۓ ہیں اسکی معرفت سے بھی صحابۂ کرام کو مددملی اس اعتبار سے کہ مناقفین اپنے ان اوصاف سے جسکا ذکر قرآن میں ہے لوگوں کو ڈراتے تھے ۔

{ يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِم قُلِ اسْتَهْزِئُواْ إِنَّ اللّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ }التوبة64.(منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتا دے،کہہ دیجۓ کہ تم مذاق اڑاتے رہو یقینا اللہ تعالی اسے ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو ۔(سورہ توبہ آیت نمبر 64)

فمما جاء من أوصافهم في القرآن :

ان کے اوصاف جن کا ذکر قرآن میں وارد ہے :ارشاد باری تعالی ہے :

{وَلَوْ نَشَاء لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ }محمد30 ،(اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے ہی سے پہچان لیتا اور یقینا تو انہیں ان کے بات کے ڈھپ سے پہچان لے گا تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں ) سورہ محمد آیت نمبر 30

وزاد القرآن وصفهم وضوحاً :

قرآن کریم نے مزید وضاحت کے ساتھ ان منافقین کے اوصاف کو(دوسری جگہ) ذکر کیا ،ارشاد باری تعالی :

{إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلاَةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآؤُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللّهَ إِلاَّ قَلِيلاً }النساء142.(بیشک منافقین اللہتعالی سے چالبازیاں کررہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑ ے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یاد الہی تو یونہی براۓ نام کرتے ہیں )سورۃ المنافقون آیت نمبر 142

ومع هذا وذاك جاء القرآن ليكشفهم في كثير من المواقف والأحداث ، ذاكراً أوصافهم دون أسمائهم؛ لأن صفات المنافقين تتكرر في الجنس البشري في كل الأزمان ، فيحذر المؤمنون الاتصاف بها ، وأيضاً يحذروا كيد من اتصف بها .

باوجود اسکے کہ قرآن کریم کی آمد نے بہت سے موقعوں پر ان منافقین کے اوصاف کو بغیر ان کے اسماء کا ذکر کرتے ہوۓ واضح کیا کیونکہ منافقین کے یہ اوصاف ہر زمانے میں انسانوں کے درمیان پیش آتے رہے اور یہ سب اس لۓ کہ ان اوصاف کے متصف ہونے سے مومنین بچ سکیں نیز جو لوگ ان اوصاف کے حامل ہیں ان کے حیلہ سازیوں سے بھی محفوظ رہ سکیں ۔

وقد جعل النبي – صلى الله عليه وآله وسلم – حب الأنصار علامة الإيمان ، وبغض الأنصار علامة النفاق ، وأخبر صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم حذيفة بن اليمان بأسماء المنافقين ، فكان عمر وغيره من الصحابة لا يصلون على من لا يصلي عليه حذيفة .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی محبت کو علامت ایمان قرار دیا اور انصار سے بغض و عداوت کو نفاق کی علامت ٹہرایا ،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کو منافقین کے نام سے باخبر کیا ،نتیجہ یہ ہوا کہ عمررضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام اس شخص کی جنازہ کی نماز نہیں پڑھتے تھے جسکی جنازہ کی نماز حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نہ پڑھی ہو ۔

وأكتفي للتدليل على معرفة الصحابة لصفات المنافقين وتصريحهم بمعرفة بعضهم بقصتين :

دلیل کے طور پر صرف دو قصوں کے بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام منافقین کے صفات کو جانتے تھے ۔

الأولى : حدثت بعد انسحاب عبد الله أبي بن سلول من جيش المسلمين الخارج لمواجهة جيش المشركين في أحد ، فقد كان عبدالله بن أبي بن سلول له مقام يقومه كل جمعة لا ينكر ، شرفا له في نفسه وفي قومه ، وكان فيهم شريفا ، إذا جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة وهو يخطب الناس ، قام فقال ‏‏:‏‏ أيها الناس هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أظهركم ، أكرمكم الله وأعزكم به ، فانصروه وعزروه ، واسمعوا له وأطيعوا ، ثم يجلس حتى إذا صنع يوم أحد ما صنع ، ورجع بالناس ، قام يفعل ذلك كما كان يفعله ، فأخذ المسلمون بثيابه من نواحيه ، وقالوا ‏‏:‏‏ اجلس ، أي عدو الله ، لست لذلك بأهل وقد صنعت ما صنعت ، فخرج يتخطى رقاب الناس ([19])‏‏.‏‏ ‏

پہلا قصہ : غزوۂ احد کے موقعہ پر اسوقت پیش آیا جب عبداللہ بن ابی بن سلول مسلمانوں کے صف سے جو کفار کے مقابلہ کے لۓ نکلے تھے نکل کر واپس آگیا اور چونکہ عبد اللہ بن ابی بن سلول جمعہ کے دن ایک جگہ تھی جہاں پر وہ اپنے مقام کو ظاہر کرتے ہوۓ کھڑا ہوتا تھا کیونکہ وہ اپنے قوم میں معزز ومکرم تھا جبکہ اسمیں اور بھی معزز لوگ ہوتے تھے اور وہ ایسا اسوقت کرتا تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوۓ بیٹھتے تھے ،کھڑا ہوکر یہ کہتا تھا اے لوگو یہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالی نے تم کو عزت بخشی ہے اسلۓ تم ان کی مددو تائید کرو،ان کی باتوں کو سنو اور ان کی فرمانبرداری کرو ،پھر بیٹھ جاتا یہاں تک جب اسنے وہ کارنامہ جو غزوۂ احد کے موقعہ پر کیا کہ کچھ لوگوں کو لیکر واپس آگیا ،کھڑا ہوا اور ویسے ہی کرنا چاہا جیسے وہ پہلے کرتا تھا ،مسلمانوں نے اس کے کپڑے کے کنارہ کو کھینچتے ہوۓ اسے بٹھا دیا اوریہ کہا کہ اے اللہ کا دشمن تو اسکا اہل نہیں ہے کیونکہ تونے بہت کچھ (دھوکہ )دیا چنانچہ وہ لوگوں کے گردن کو پھلانگتے ہوۓ وہاں سے نکل پڑا ۔

الثانية : قصة صلاة النبي – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم – في بيت عتبان بن مالك رضي الله عنه استجابة؛ لطلب عتبان صلاة رسول الله في بيته ليتخذ مكانه مصلى له ؛ حيث ضعف بصره ، فأخذ الأصحاب الذين حضروا معه يتحدثون بينهم في أمر المنافقين ، قال الإمام النووي معلقاً على حديثهم عند شرحه للحديث في صحيح مسلم :وذكروا شأن المنافقين وأفعالهم القبيحة وما يلقون منهم ([20]).

دوسرا واقعہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا قصہ وہ یہ کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی جب کمزورہوگئی تو انھوں نے اللہ کے رسول سے درخواست کی کہ آپ ان کے گھر میں نماز پڑھ لیں تاکہ وہ اسجگہ کو نماز پڑھنے کے لۓ خاص کرلیں ۔

وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اپنے مابین منافقین کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ،امام نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کی اس حدیث کی شرح کرتے ہوۓ تحریر فرماتے ہیں :انہوں نے منافقین اور ان کے قبیح اور گھناونے اعمال نیز ان منافقین سے جواذیتیں لاحق ہوتی تھیں ان کا ذکر اپنے مابین کیا ۔

ج‌-  أن عليا وآل البيت - رضي الله عنهم وأرضاهم - لم يثبت عنهم اتهام  عموم الصحابة في صدقهم وعدالتهم  ، بل عاشوا معهم  متحابين متآخين .

ج- علی رضی اللہ عنہ اور آل علی سے کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا ہے کہ انھوں نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت وصداقت میں الزام تراشی اور اتہام سے کام لیا ہو بلکہ انھوں نے ان کے ساتھ الفت ومحبت اور بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزاری ۔

ح‌-   أن محبة آل البيت وتقديرهم هي مما حمله لنا الصحابة – رضي الله عنهم – فهل يكون جزاؤهم ممن يزعم صدق محبته لآل البيت أن ينكر عدالتهم ، ويتهمهم بالنفاق ؟!

ح – آل بیت کی محبت اور ان کا احترام جسے صحابۂ کرام نے ہم تک پہنچایا تو کیا اسکا بدلہ یہی ہونا چاہیۓ کہ وہ جو آل بیت سے سچی محبت کا دم بھرتے ہیں ایسے لوگوں کی عدالت کا انکار کریں اور انہیں نفاق سے متہم کریں ۔

خ‌-  كيف يكتب لمن هو ساقط العدالة  التوفيق ؟! وكيف تجتمع قلوب الكثيرين منهم على شريعة واحدة حملوها نقية أثناء دعوة نبيهم ، واستمروا على ذلك بعد موته ؟!

ولماذا لم يتركوها بعد موته ؟

خ- کیسے وہ شخص لکھ سکتا ہے جو خود عدالت کی صفت سے کو سوں دور ہو اور کیسے بہت سے لوگوں کے دل اس ایک شریعت پر جمع ہوسکتے ہیں جسے انھوں نے بہت ہی صاف ستھرے حالت میں اپنے نبیوں کی دعوت کے مابین اٹھایا تھا نیز ان کے وفات کے بعد اسپر وہ مستمر اور باقی رہے ۔

اور کیوں انھوں نے اسے ان کی وفات کے بعد نہیں چھوڑا

ولعلنا نسأل :  

ہم یہ سوال کرتے ہیں

هل كان للخلاف الذي حدث بين الصحابة – رضي الله عنهم – أثره في التشكيك في عدالتهم ، ووصفهم بالنفاق ؟

کیا صحابۂ کرام کے مابین جو اختلاف رونما ہوا آیا ان کی عدالت میں شک کرنے یا انہیں نفاق (نعوذ باللہ )سے متصف کرنے کی بنیاد پر ہوا ۔

والجواب : هو أنه العلماء قالوا بعصمة الأنبياء – عليهم السلام – وما عداهم من الصديقين والشهداء والصالحين فليسوا بمعصومين بل يقع منهم الخطأ ، فيغفره الله بالتوبة الصادقة والاستغفار ، والحسنات التالية للذنب ، والبلاء الذي يصيبهم في الدنيا ، ويزيد الصحابة بما قدموه من جهاد ونصرة للإسلام .

هذا في حال العمد أما ما كان عن اجتهاد معتقدا أنه على حق فللمصيب منهم أجران : أجر الاجتهاد ، وأجر الإصابة ، وللمخطئ أجر الاجتهاد فقط .

وهذا ما يقال فيما وقع بين الصحابة من فتن ، علماً بأن كثيراً من الصحابة اعتزلوا تلك الفتن .

جواب :اہل علم انبیاء علیہم الصلاۃوالسلام کے معصوم عن الخطا ہونے کے قائل ہیں ،ہاں ان کے علاوہ صدیقین،شہداء وصالحین یہ لوگ معصوم نہیں ہیں بلکہ ان سے خطائیں سرزد ہوئیں جنہیں اللہ تعالی نے ان کی سچی توبہ ،استغفار،اور گناہ سرزد ہونے کے بعد اعمال صالحہ کرنے نیز دنیا میں جو مصیبتیں لاحق ہوئیں ان کی بنیاد پر اللہ نے انہیں بخش دیا ،صحابۂ کرام کی  سبقت اس ناحیہ سے بھی ہوئی کہ مزید انھوں نے جہادکۓ اور دین اسلام کی مدد کے لۓ کوشاں رہے ۔

یہی وہ چیز ہے جو صحابۂ کرام کے مابین جو فتنے رونما ہوۓ ان کے بارے میں کہی جاتی ہے اسکے باجود یہ چیز علم میں ہونی چاہیۓ کہ کتنے صحابۂ کرام ان فتنوں سے دور رہے ۔

فهل من العدل القول : بأن كل مخطئ آثم ؟! وتطبيقه في حق ما وقع بين الصحابة – من فتن ، وجعل ذلك مبرراً للحكم عليهم بعدم العدالة واتهامهم بالنفاق والكفر ؟!

تو کیا یہ کہنا انصاف اور عدل ہوگا کہ ہر خطاکار گنہگارہے اور اسے ان فتنوں سے جوڑ دیا جاۓ جو صحابۂ کرام کے مابین پیش آۓ،اور اسے ان صحابۂ کرام کے عادل نہ ہونے نیز انہیں نفاق اور کفر سے متہم کرنے پر دلیل بنا لیا جاۓ ،(اللہ کی پناہ )

لقد شهد القرآن بأن اقتتال المؤمنين لا يخرجهم عن الإيمان

قرآن کریم اس بات پر شاہد ہے کہ مومنین کا آپس میں لڑ جانا انہیں دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتا ہے ، 

بقوله تعالي‏:‏ ‏{ ‏وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ‏}‏ ‏[‏الحجرات‏:‏ 9، 10‏]‏، ارشاد باری تعالی:(اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرادیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آۓ اور اگر لوٹ آۓ تو انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور عدل کرو ،اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ) الحجرات آیت نمبر 9-10)

فقد جعلهم مع وجود الاقتتال والبغي [مؤمنين إخوة ] بل مع أمره بقتال الفئة الباغية جعلهم [ مؤمنين‏ ].وقال صلى الله عليه وآله وسلم عن الحسن رضي الله عنه : ( ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح على يديه بين فئتين عظيمتين من المسلمين ) ([21])، فسمى الطائفتين مسلمين ([22]).

فليس كل ما كان بغيا وظلمًا أو عدوانًا يخرج عموم الناس عن الإيمان، ولا يوجب لعنتهم، فكيف يخرج ذلك من كان من خير القرون‏؟‏‏!‏

قتل وخونریزی اور زیادتی کے باوجود بھی مومنوں کو آپس میں بھائی قرار دیا بلکہ زیادتی کرنے والی جماعت کے قتل کا حکم دینے کے باوجود بھی انہیں بھائی قرار دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا :میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اسکے ہاتھ پر مسلمانوں کی دو بڑی گروہ کے مابین صلح فرماۓ گا ۔(غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کو مسلمان سے موسوم کیا ۔

معلوم ہوا کہ ہر وہ انسان جو باغی ،ظالم اور شرکش ہو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر لعن طعن واجب ہے تو کیسے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائیں جو خیر القرون میں تھے ۔

وختاماً :

أهل السنة يعتقدون عدالة الصحابة ، ولا يجيزون جرحهم ، ولا يدعون العصمة لهم ، وأن عدالتهم تكمن في قوة إيمانهم الذي يمنعهم من الجرأة على الكذب على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم .

اخیر میں عرض یہ ہیکہ اہل سنۃ والجماعۃ یہ صحابۂ کرام کے عادل ہونےکا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کے اوپر جرح اور تپصرہ کرنے کوجائز قرار نہیں دیتے ہیں ،ان کے (معصوم عن الخطا )ہونے کا بھی دعوی نہیں کرتے ہیں ،ان کے عادل ہونے کی سب سے واضح دلیل ان کی وہ ایمانی قوت جو اللہ کے رسول پرجھوٹ گڑھنے سے انہیں روکتی ہے اور وہ اسکی جرآت اور ہمت نہیں کرتے ہیں ۔

 

فإلى كل من يقدح في عدالة الصحابة رضي الله عنهم وأرضاهم ، ويتهمهم بالنفاق ، ويحكم بكفرهم نقول الآتي :

ہر وہ شخص جو عدالت صحابہ کا قائل نہ ہو اور انہیں نفاق سے متہم کرتا ہو بلکہ انہیں کافر کہتا ہو اس سے ہم چند باتیں کہیں گے جو مندرجہ ذیل ہیں :

- ألا تقنع بتزكية الله تعالى لهم ؟!

- ألا ترضى بتزكية النبي – صلى الله عليه وسلم - لهم ، ووصايته بهم ؟!

- ألا يؤثر فيك ثناء علي – رضي الله عنه - عليهم ، وحبه لهم ؟!

- کیا تم اس بات سے مقتنع نہیں ہو کہ اللہ نے ان کا تزکیہ کیا ہے ۔

- کیا تمہیں یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ اللہ کے رسول  نے بھی ان کا تزکیہ کیا ہے اور انہیں وصیتیں کی ہیں

کیا تم پر علی رضی اللہ عنہ کی تعریف اور ان کی ان کے لۓ محبت اثر انداز نہیں ہوتی ہے ۔

- أريدك تفكر بتجرد من كل ما سمعته من طعن فيهم – رضي الله عنهم – ثم تأمل في :

میں چاہتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ سنا ہےکہ جو لوگ ان صحابۂ کرام کے بارے میں طنزوتشنیع کرتے ہیں ان چیزوں سے صرف نظر کرکے آنے والے امور میں غور کریں :

1-            أن المنافق الذي يظهر الإسلام ويبطن الكفر لن يروي من دين يبغضه ولا يحبه شيئا ويعلمه للناس.

1- منافق جو اسلام کو ظاہر کرتا ہے اور کفر کوچھپاۓ رکھتا ہے دین سے ہرگز ہرگز اس چیز کو نہیں روایت کرسکتا ہے جو اسے نا پسند ہو اور نہ ہی اسے وہ چیز پسند ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو سکھلاۓ ۔

2-   أن الله تعالى تكفل بحفظ دينه ، فهل يوكل نقل دينه إلى المنافقين حاشا لله ، وكل العقلاء يعرفون أن مثل هذا الفعل لا يليق بعاقل فكيف بالله تعالى ؟!

2-اللہ تعالی نے اپنے دین کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے دین کے نقل کرنے کی ذمہ داری منافقین کو سونپ دے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ہے اور اس بات کو ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ ایسا کسی صاحب عقل کے شایان شان نہیں تو اللہ کے لۓ یہ کیسے اسکے شایان شان ہو سکتی ہے ۔

3-   هب أن بعض المنافقين روى شيئا من الأحاديث فإن ما رووه إما أن يوافق القرآن والروايات الأخرى وإما أن يخالفها، فإن وافقها فلا يشك في صحته ، وإن خالفها جزمنا ببطلانه.

3-بالفرض اگر یہ مان لیں کہ منافقین نے کچھ حدیثیں روایت کی ہیں پس اگر ان کی وہ روایت کردہ احادیث قرآن اور دیگر روایات کے موافق ہیں تو ان کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں اور اگر ان کی روایت کردہ چیزیں قرآن وحدیث کے مخالف ہیں تو ہم نے ان کے باطل ہونے کا قطعی فیصلہ کرتے ہیں ۔

 

والسؤال العظيم الذي نختم به هو :

سب سے اہم سوال جس کے ساتھ اس (موضوع )کو ختم کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ :

أننا نؤمن بأن الرسول – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم - حق ، وأن القرآن حق ، و الذي بلغنا القرآن وحمل لنا سنة النبي – صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم - هم أصحابه – رضي الله عنهم – فهل تريدون أن تجرحوا شهودنا ؟ وبالتالي تبطلوا الكتاب والسنة ؟!

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بر حق ہیں ،قرآن بر حق ہے اور چونکہ جن لوگوں نے قرآن و حدیث کو ہم تک پہنچایا وہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں تو کیا تم چاہتے ہو کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کرو اورقرآن وسنت کوباطل ٹہرا دو؟

 

- أعوذ بالله من الشيطان الرجيم :

{ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً }الفتح .29

ارشاد باری تعالی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم ہیں تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کررہے ہیں ،اللہ تعالی کے فضل اوررضامندی کی تلاش میں ہیں ،ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ،ان کی یہی صفت تورات میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جسنے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنی جڑپر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑاۓ،ان ایمان والوں اور شائستہ اعمال والوں سے اللہ تعالی نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔(سورۃ الفتح آیت نمبر 29)