نماز مسنون


 

  1. نماز مسنون

         رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ( صَلُو اکَمَا رَأَیْتُمُونِ أُصَلِ )  نمازاس طرح پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو،،۔ وضو کے بعد جو نماز پڑھنی مقصود ہو اس کی نیت دل سے کریں ، رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلمکا ارشاد ہے:( ِانَّمَاالْأعْمَالُ بِالنِیَّاتِ )'' بے شک عملوں کا دار ومدار نیتوں پر ہے ''۔زبان سے نیت کرنا بدعت ہے ۔پھرقبلہ رخ ہو کر نماز کے لئے کھڑے ہوجائیں۔اپنے دونوں ہاتھ کندھوںکے برابراُٹھاتے ہوئے  ( اﷲ ُأَکْبَرْ )تکبیر تحریمہ کہیں ۔اس کے بعد دونوں ہاتھ سینے پر اس طرح باندھیں کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت اور اس کے جوڑااور کلائی پر رکھیں ۔

 

  1. دعا ثنا:تکبیر تحریمہ کے بعدیہ دعا  پڑھیں :

        ( أَللَّھُمَ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَا َکَمَا بَعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ،  اللَّھُمَ نَقِّنِْ مِنَ الْخَطَایَایَ، کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَ بْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اَللَّھُمَّ اغْسِلْنِْ مِنْ خَطَایَایَ بِالْمَا ئِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ)]بخاری ومسلم[

''یااﷲ میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق اورمغرب کے درمیان دوری رکھی ۔ اے اﷲ مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑامیل سے پاک کیا جاتا ہے اے اﷲ!میرے گناہ پانی،برف اور اولوں سے دھو ڈال''۔

 

  1. یا یہ دعا پڑھیں:

 ( سُبْحَانَکَ اللَّھُمَ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَااِلَہَ غَیْرُکَ )(صحیح الترمذی)۔

''اے اﷲ تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ ،بابرکت ہے تیرا نام ،بلند ہے تیری شان ،اور تیرے سا تھ کوئی معبود نہیں ''۔

 

  1. اس کے بعدتعوذ پڑھیں:

(أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) ]سنن ابی:٧٧٥[

''اﷲکی پناہ مانگتا ہوں ،شیطان مردود کے شر سے''۔

 

  1. اس کے بعد سورة فاتحہ پڑھیں:

(  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ(1)الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ(2)الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ(3)مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ(4)ِیَّاکَ نَعْبُدُ وِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ(5)اِہْدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ(6)صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْنَ(7))]آمین[

''شروع کرتا ہوںاللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔بدلے کے دن کا مالک ہے ۔  ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ہمیں  سیدھی (اورسچی )راہ دکھا ۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ،کی نہیں جن پر غضب کیا گیا(یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق پہچانامگر اس پر عمل نہیں کیا)اور نہ گمراہوں کی (یعنی وہ لوگ جو جہالت کے سبب راہ حق سے بر گشتہ ہوگئے ''۔            سورة فاتحہ ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے خواہ آدمی اکیلا ہو یا امام کے پیچھے۔کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی نمازنہیں ہوتی ہے۔

رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلمکا فرمان ہے :(( لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ  بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ ))]متفق علیہ[

'' جوآدمی نماز میں سورة  فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے''۔

حضرت ابو ہریرة  رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی پس وہ نماز ناقص ہے ،یعنی نا مکمل ہے ''۔اور یہ الفاظ تین بار دھرائے۔

ابو ہریرة  رضی اﷲ عنہ سے پوچھا گیا۔ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو انھوں نے فرمایا:ہاں اس کو دل میں پڑھ لیا کرو''۔]مسلم[

جب امام ''وَلاَ الضَّالِّیْن'' کہے تو امام کو بھی اور مقتد یوں کو بلند آواز کے ساتھ آمین کہنی چاہئے۔

 

  1. رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اِذَا أَ مََّنَ الْاِمَامُ فَاَمِّنُوْافَاِنَّہُ مَنْ وَافَقَ تَامِیْنُہُ تَامِیْنَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ))]بخاری:٧٨[

''جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ موافق ہو گئی اس کے پچھلے گناہ معاف کردے جاتے ہیں ۔

اس کے بعد قرآن مجید کی کوئی ایک سورت یا چند آیات پڑھ لیں ۔

پھر( اﷲ ُأَکْبَرْ )کہہ کر رکوع کریں ،رکوع کرتے وقت دونوں ہاتھ کندھوں کے برا بر اُٹھائیں اور رکوع میں مندرجہ ذیل تسبیحات میں سے کوئی ایک

 

  1. تسبیح کم ازکم تین مرتبہ پڑھیں:

-1( سُبْحَانَ رَبَِّ الْعَظِیْمِ ) ]مسلم[''پاک ہے میرا رب عظمت والا''۔

-2( سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّھُمَ اغْفِرْلِْ)]بخاری[

''اے اﷲ ! اے ہمارے رب !تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ ہے،اے اﷲ مجھے بخش دے۔

پھر رکوع سے سر اٹھاتے رفع الیدین کرتے ہوئے یہ دعا پڑھیں :

(: سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہُ)

''اﷲتعالیٰ نے اس آدمی کی بات سن لی ، جس نے اس کی حمد بیان کی''۔

جب سیدھا کھڑا ہوجائیںتو یہ کہیں: ( رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ )

''اے ہمارے رب سب تعریف تیرے ہی لئے ہے'' ۔

 اور یہ کہنا بھی ثابت ہے ( رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ حَمْداًکَثِیْراً طَیِّبًا مُبَارَکاً فِیْہِ ، مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَ مِلَ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ  أَھْلَ الثَنَائِ وَالْمَجْدِ،أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، وَکُلُّنَا لَکَ عَبْد  اللَّھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ  وَلَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ)]بخاری[

        ''اے ہمارے رب  ! تمام قسم کی تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں بہت زیادہ پاکیزہ اور با برکت تعریفیں ، آسمان وزمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہئے ۔ اے تعریف و بزرگی والے ! بندے نے جو کچھ کہا ( تیری تعریف کی) ہے توہی اس کا سب سے زیا دہ حق دار ہے ، ہم سب تیرے ہی بندے ہیں ، اے اﷲ ! جو چیز تو عطا فرمائے اسے کوئے روکنے والا نہیںاور جس چیز کو تو روک لے وہ ( چیز) کوئی (اور ) عطا کرنے والانہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ''۔

رفع الیدین یعنی دونوں ہاتھوں کا اٹھا نا نماز میںچار جگہ ثابت ہے:]بخاری[

-1شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت۔  -2      رکوع سے پہلے ۔

-2رکوع کے بعد ۔           -4تیسری رکعت کے ابتدا میں ۔

 

  1. رکوع کرنے کا طریقہ:

رکوع میں کمر (پشت)بالکل سیدھی رکھیں اور سر کو پشت کے برا بر سیدھا رکھیں یعنی سر نہ اونچاہونہ نیچا۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں کھلی رکھیںاور کہنیوں کو سیدھا رکھیں ۔

قومہ:رکوع کے بعد کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں۔ رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونا یہاں تک کہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر آجائیں۔

 

  1. سجدہ کرنے کا طریقہ:

         پھر تکبیر( اﷲ ُاکْبَرْ ) کہتے ہوئے سجدہ میں جائیں۔وہ اس طرح کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھیں۔اس کے بعدگھٹنوں کو زمین پر رکھیں۔ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے:''جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے''۔]ابو داؤود[

        ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کریں، ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر رکھیں، اور سجدہ  میں،پیشانی نا ک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، ا و ر دونوں پاؤں کی انگلیوں  کے سرے زمین پر لگنا ضروری ہے ۔

رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات اعضا ء (ہڈیوں) پرسجدہ کروں،پیشانی نا ک کے ساتھ، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں، ا و ر دونوں پاؤں کی انگلیوں  پر'' ۔]بخاری[

 اپنے بازوں کو اپنے پہلوں سے جدا رکھے، اور اپنے دونوں بازوں کو بغلوں سے اس قدر ہٹائے رکھیں، کہ بغل کی سفیدی دکھائی دے، اور بازوں کو زمین سے اوپر رکھیں ،اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے مقابل رکھیں ،اور کبھی اپنے کانوں کے مقابل اور اپنے سجدے میں اعتدال کریں ۔

 

  1. ضروری بات:
  2. ہ حکم مردوں اور عورتوں دونو ںکے لئے ہے۔بہت سی عورتیں سجدہ میں بازو بچھا لیتی ہیں ۔ اور پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھتی ہیں ۔ اور دونوں قدموں کوبھی زمین پرکھڑا نہیںکرتیں ۔یہ طریقہ سنت کے خلاف ہے ۔رسول اﷲ ۖ نے فرمایا تم میں سے کوئی (مرد یا عورت) سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر اس طرح نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے۔]بخاری[

 

  1. سجدے میں پڑھی جانے والی تسبیحات:

-1( سُبْحَانَ رَبَِّ الأَعْلٰی)''میرا بلندیوں والا رب پاک ہے''۔

-2( سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّھُمَّ اغْفِرْلِْ)

''ہمیں پالنے والے اﷲ ! تیری تعریف کے ساتھ ہم تیری پاکیزگی بیاب کرتے ہیں ؛ اے اﷲ! مجھے معاف کر دے ''۔

-3(سُبُّوح قُدُّوْس رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَ الرُّوْحِِ)]مسلم[

''نہایت ہی  پاک ہے فرشتوں کا رب ، جبریل کا رب''۔

-4 (رَبِّ اغْفِرْلِیْ  ذَنْبِیْ کُلَّہُ دِقَّہُ وَجَلَّہُ وَأَوَّلَہُ وَ آخِرَہُ وَعَلَانِیَتَہُ وَسِرَّہُ)]مسلم[

'' اے اﷲ! میرے چھوٹے بڑے ، اگلے اور پچھلے، ظاہر اور پوشیدہ ،تمام گناہ بخش دے''۔

        پھر( اﷲ ُ اکْبَرْ )کہہ کر سجدے سے سر اٹھائیں، اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں، دایاں پاؤں کھڑا کریں، اور دونوں ہاتھ رانوں اور گھٹنوں پر رکھیں،دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو جلسہ کہتے

 

  1. ہیں۔ یہ دعا ئیںپڑھیں :

-1( اللَّھُمَّ اغْفِرْلِْ وَ ارْحَمْنِ  وَارْزُقْنِْ  وَعَافَنِْ  وَاھْدِنِْ  وَاجْبُرْنِْ )]ابوداؤود[

 '' اے اﷲ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما  ، مجھے رزق عطا فرما ، مجھے عافیت سے رکھ ، مجھے ہدایت دے،  اور میرے نقصان پورے فرمادے ''۔

-2(رَبِّ اغْفِرْلِیْ،(رَبِّ اغْفِرْلِیْ)]ابوداؤود[

''اے میرے رب مجھے معاف فرما دے ، اے میرے رب مجھے معاف فرما دے' '۔

اور دو سجدوں کے درمیان لمبا اعتدال کریں ۔ پھر( اﷲ ُ اکْبَرْ )کہہ کر دوسرا سجدہ کریں ، اس میں مذکورہ دعائیںپڑھیں۔  پھر(اﷲ ُاکْبَرْ ) کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائیں ۔اور تھوڑی دیر سیدھا بیٹھے جس طرح دو سجدوں کے درمیان بیٹھا جاتا ہے۔ اسے جلسہ استراحت کہتے ہیں۔اور یہ مستحب ہے۔ اس میںکوئی دعا نہیں ہے۔رسول اﷲۖ نماز میں طاق رکعت کے بعد کھڑا ہونے سے پہلے بیٹھتے تھے۔]بخاری[

    پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں۔جلسہ استراحت سے کھڑے ہونے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک لگا کراٹھیں۔ ]بخاری[  پھر پہلی رکعت کی طرح سورت فاتحہ اورکوئی ایک سورت ملا کرپڑھیں اور رکعت پوری کریں۔

 

  1. درمیانی تشہد:

      دوسری رکعت پوری کرنے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر اس پربیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں ۔اسے درمیانی تشہد یا قعدہ اولیٰ کہتے ہیں۔ اور دائیں ہاتھ کو دائیںگھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر یا رانوں پر رکھیں ۔]مسلم[

 

  1. پھر یہ دعا پڑھیں:

 ( اَلتَّحِیَاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلی عِبَادِاﷲِ الصَّالِحِیْنَ أَشْھَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ، وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔) ''(میری تمام) قولی بدنی مالی عبادات صرف اﷲ کے لئے خالص ہیں ۔ اے                           نبی !آپ پر اﷲ کی رحمت ، سلامتی اور برکات ہوں، اور ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر بھ سلامتی ہو ۔ میں شہادت دیتا ہوں ،کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ،اور اس کی بھی شہادت دیتا ہوں، کہ محمد(صلی اﷲعلیہ وسلم) اﷲ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں''۔

 

  1. تشہد میں شہادت کی انگلی اٹھانا:

تشہدمیں دائیں ہاتھ کی تمام انگلیاں بند کر کے شہادت والی انگلی سے  وحدت کا اشارہ کر یں ۔بہتر یہ ہے کہ چھنگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کر کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناکر شہادت والی انگلی سے اشارہ کریں۔ یہ دونوں طریقے نبی ۖ سے ثابت ہیں ۔

 

  1. آخری تشہد:

آخری رکعت کے تشہد میں تورک کرنا چاہئے، یعنی  اس طرح بیٹھیں کہ بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر نکا لیں اور دایاں پاؤں کھڑا رھیں اور بائیں جانب کے کولہے پر بیٹھ جائیں ۔]ابو داؤود[

آخری تشہد میں التحیات  پڑھنے کے بعدیہ درودشریف پڑھیں:

( اللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْد مَّجِیْد۔   اللَّھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْد مَّجِیْد ).]بخاری[

'' یااﷲ !محمد (ۖ) اور آپ کی آل پر رحمت فرما  ۔جس طرح تونے ابراہیم (علیہ السلام ) اور ان کی آل پر رحمت فرما ئی ۔ یقینا تو قابل تعریف (اور ) بزرگی والاہے۔یااﷲ !محمد (ۖ) اور آپ کی آل پر برکت فرما  جس طرح تونے ابراہیم(علیہ السلام ) اور ان کی آل پر برکت فرما ئی ۔ یقینا تو قابل تعریف (اور ) بزرگی والاہے''۔

اس کے بعد اﷲ تعالیٰ سے چار چیزوں کی پناہ طلب کریں۔  اور یہ پڑ ھیں : (اَللَّھُمَّ اِنّیْ أَعَوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وََ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ،وََ مِنْ فِتْنَةِ مَحْیَاوَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ ا لدَّجَّالِ )

''اے اﷲ میں جہنم ،اور قبر کے عذاب سے ،موت وحیات کے فتنہ، اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں''۔ پھر دنیا وآخرت کی بھلائیوں کے لئے جو پسند کرے، وہ دعا کرے۔

 اور ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے جو آپ  ۖ نے ابو بکر رضی اﷲ عنہ کو سکھلائی تھی : ( اَللَّھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمَاً کَثِیْراً وَ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِْ مَغْفِرَةًمِنْ عِنْدِکَ، وَارْحَمْنِْ اِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ)''اے اﷲ میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ، اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا تو اپنے فضل سے مجھے معاف فرما۔  اور مجھ پر رحم فرما بلا شبہ تو بہت ہی معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والاہے'' ۔

 (اَللَّھُمَّ اِنّیْ أَعَوْذُ بِکَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)

 ''اے اﷲ میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ سے اور قرض سے'' . ا

  پھردائیں اور بائیںطرف (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُاﷲِ) کہہ کر سلام پھیریں ۔اس طرح آپ کی نماز پوری ہو گئی۔

 

  1. نوٹ:    نماز کے متعلق چند ضروری باتیں:

      -1نماز میں موذی جانور مارنا جائز ہے ۔

     -2نماز میں بچے کو اٹھانے سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔

 -3اگر کوئی سلام کہے تو نمازی ہاتھ کے اشارے سے جواب دے سکتا ہے۔

 

  1. سجدہ سہو:

    جوشخص نماز میں بھول جائے یا اسے شک ہو کہ اس نے دو رکعات پڑھی ہیں یا تین ، وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے اور اس کے بعد سلام پھیرے۔]ترمذی[

 

  1. نماز کے بعد کی دعائیں :

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے'اﷲ ُاکْبَرْ ' کہتے۔ ]ترمذی[پھر تین مرتبہ  اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ,کہتے۔]بخاری[

 

  1. پھر یہ دعا پڑھتے :

( اَللّٰھُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ ، تَبَارَکْتَ ےَا ذَالْجَلَالِ وَالِکْرَامِ)]مسلم[  '' اے اﷲ تو سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی حاصل  ہوتی ہے۔تو با برکت ہے اے عزت اور بزرگی والے ''۔

 

  1. اس کے بعد مندرجہ ذیل دعائیں پڑھیں:

( اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ)

''اے میرے اﷲ اپنے ذکر شکر اور اچھی عبادت کی تو فیق عطا فرما'' ۔

(لَا ِلٰہَ ِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلَی کُلِ شَْئٍ قَدِےْر ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ ِلَّا بِاللّٰہِ،لَا ِلٰہَ ِلَّا اللّٰہُ  وَلَا نَعْبُدُ ِلاَّ ِےَّاہُ،لَہُ النِّعْمَةُ،وَلَہُ الْفَضْلُ، وَلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ،لَا ِلٰہَ ِلَّا اللّٰہُ ' مُخْلِصِےْنَ لَہُ الدِّےْنَ، وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ)]مسلم[

٫٫اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کیلئے ہے بادشاہی اور وہی ہے حمد کیلئے لائق ،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ نہ ہی کوئی احاطہ ہے اور نہ ہی قوت مگر اللہ تعالی کی طرف سے، اور ہم صرف اسی کی بندگی کرتے ہیں،اسی کی نعمتیں ہیںاور اسی کے لئے تمام برتری ہے، اور اسی کیلئے اچھی تعریفیں ہیں،اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، دین خالص اسی کا ہے ، اگرچہ کافروں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو،،۔ 

 اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا ےَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ)۔]بخاری[

'' اے اللہ ! جسے تو دے ، اسے کوئی روکنے والا نہیں ،اور جس سے تو روک لے ، اسے کوئی دینے والا نہیں ،اور نہ ہی تیرے ہاں کسی کی بزرگی کام آسکتی ہے ،،۔

رسول اﷲ ۖ نے فرمایا:فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے والے اور جنت کے درمیان صرف اس کی موت حائل ہے۔

(اللّہُ لاَ ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَ تَأْخُذُہُ سِنَة وَلَانَوْم لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہُ ِلاَّ بِِذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ ِلاَّ بِمَا شَآئَ  وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلَایَؤُوْدُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ)]البقرة:٢٥٥[

 اس کے بعد33 بار سُبْحَانَ اللّٰہِ ، 33 بار الْحَمْدُ لِلّٰہِ ،33 بار اللّٰہُ اَکْبَر، پڑھیں اور آخر میں ایک بار(لَا ِلٰہَ ِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلَی کُلِ شَْء قَدِےْر) ]مسلم[پڑھ کر سو مکمل کرلیں ۔

 

  1. نماز فجر اور نماز مغرب کے بعد یہ کلمات دس دس بار پڑ ھیں:

(لَا ِلٰہَ ِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،،ےُحِْ وَےُمِےْتُ ،وَھُوَ عَلَی کُلِ شَْء قَدِےْر)

''اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کیلئے ہے بادشاہی اور وہی ہے حمد کے لائق ،وہی زندگی اور موت دیتا ہے ،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ''۔

سورت الخلاص:

(  قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَد      ّاللَّہُ الصَّمَدُ      ّلَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ       ّوَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُواً أَحَد       ّ)

معوذتین:

 (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ      ّمِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ       ّوَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ ِذَا وَقَبَ       ّ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِیْ الْعُقَدِ      ّوَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ ِذَا حَسَدَ       ّ)

(  قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ     ّمَلِکِ النَّاسِ     ّ ِلَٰہِ النَّاسِ     ّ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ     ّالَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ     ّ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ      ّ) پڑھیں ۔

 ان سورتوں کا مغرب اور فجر کی نماز کے بعد تین تین بار پڑھنا مسنون ہے ۔

 

  1. وتر پڑھنے کا طریقہ :

رسول اﷲ ۖ نے فرمایا وتر ہر مسلمان پر حق ہے ۔پس جو شخص پانچ وتر پڑھنا چاہے تو پانچ رکعات پڑھے اورجو تین وتر پڑھنا چاہے تو تین رکعات پڑھے

اورجو ایک وتر پڑھنا چاہے تو ایک رکعت پڑھے۔]ابوداؤود[

رسول اﷲ ۖنے فرمایا:'وترمیں نماز مغرب کی مشابہت نہیں ہونی چاہئے''۔ ]دار قطنی[یعنی دو رکعتوں کے تشہد میں بیٹھے بغیر تیسری رکعت پڑھیں ۔

  1. وتر کی دعا:

((أَللَّھُمَّ اھْدِنِی فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ،وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ  َتَوَلَّیْتَ،وَبَارِکْ لِیْ ْ فِیْمَاأَعْطَیْتَ،وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ،فَاِنِّکَ تَقْضِیْ وِلَایُقْضَیٰ عَلَیْکَ،اِنَّہَ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ،وَلَایَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ،تَبَارَکْتَ رَبَّنَاوَتَعَالَیْتَ))

''اے اﷲ جن لوگوں کو تو نے ہدایت دی ،ان میں مجھے بھی ہدایت دے اور جن کو تو نے معافی دی ہے ان میں مجھے بھی معافی دے اور جن کی تو نے ذمہ داری لی ہے ان میں مجھے بھی شامل فرما اور جو تو نے مجھے عطا کیاہے اس میں برکت ڈال دے اور جو تو نے فیصلہ کر رکھا ہے اس کی شر سے مجھے بچا، بے شک تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ،جسے تو دوست رکھے ،وہ ذلیل نہیں ہوتا اور جس کو دشمن بنا لے وہ ہر گز عزت نہیں پا تا ، اے ہمارے رب !تو برکت والا بلند وبالا ہے''۔جب وتر سے سلام پھریں تو تین بار یہ پڑھیں :((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُوْسِِ))

''پاک ہے ،بادشاہ ہے بہت پا کیزگی والا ''۔]ابو داؤود[

 





ترجمة المقال