نماز کی اہمیت اور اسکی فضیلت


نماز کی اہمیت اور اسکی فضیلت

*قال تعالى( واستعينوا بالصبر والصلاة وإنها لكبيرة إلا على الخاشعين )

ترجمہ :اور مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ساتھ اور یہ چیز شاق اور مشکل ہے مگر ڈر رکھنے والوں پر ۔

 

  1. الصلاة أحد أركان الإسلام .. وقد فرضت فوق سبع سماوات في ليلة الإسراء والمعراج وأول ما فرض خمسون صلاة في اليوم والليلة ثم خففت حتى بقيت خمسة صلاة في اليوم والليلة والأجر لخمسين صلاة .

ترجمہ :نماز یہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے ، یہ وہ نمازہے جس کی فرضیت ساتویں آسمان پر شب معراج میں ہوئی ،سب سے پہلے یہ نماز امت محمدیہ پر پچاس وقت کی دن اور رات میںفرض کی گئ پھرتخفیف ہوتے ہوتے پانچ وقت کی باقی رکھی گئ اور ثواب پچاس وقت کی نمازکا اللہ رب العزت نے بر قرار رکھا۔

 

٭عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا.(متفق عليه)

ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا کہ تمہاری کیا راۓ ہے کہ تم سے ایک انسان جس کے دروازے پرایک نہر ہو اور وہ اسمیں دن میں پانچ بار غسل کرتا ہو تو کیا اسکے (جسم پر )کچھ میل کچیل باقی رہے گا ، صحابہ کرام نے کہا اس کے (جسم پر ) کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں بچے گا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہی مثال)پنجوقتہ نماز کی ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالی گناہوں کو مٹادیتا ہے   .(متفق عليه)

 

 

٭ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : العَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ.(رواه الترمذي )

ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور ان (غیر قوموں )کے درمیان جو عہدو پیمان (حد فاصل )ہے وہ نماز ہے جسنے اسے چھوڑا اسنے کفر کیا ۔ (سنن ترمذی)

 

 

*و في رواية َمن صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ,,(متفق عليه)

ترجمہ : اور ایک دوسری روایت جسمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دو ٹھنڈی (نمازیں) پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا  (متفق عليه)دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد نماز فجر اور نمازعصر ہے ۔

 

 

٭ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، صَلاَةُ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، وَصَلاَةُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا ، لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا( مسند أحمد )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے گراں نماز نماز عشاء اور نماز فجر ہے اور اگر انہیں ان کے (اجر وثواب کا ) علم ہوجاۓ تو وہ اپنے سرین کے بل گھسٹتے ہوۓ (ان نمازوں کے لۓ ) حاضر ہوں (اگر ان کے اندر اپنے پیروں سے چل کر آنے کی طاقت نہ ہو ۔                    

 

  1. (من فوائد الصلاة):

 

1- الصلاة راحة للنفس . نماز یہ نفس کے لۓ باعث آرام وراحت ہے ۔

2- الصلاة صلة بين العبد وربه .نماز یہ بندے اور اسکے رب کے درمیان باعث تعلق ہے ۔

3- من أسباب إشاعة النظافة بين المؤمنين . مومنوں کے مابین صفائی وستھرائی کے رائج ومنتشر ہونے کے اسباب میں سے ہے ۔